موضوع: اقوام متحدہ میں عمران خان کی نفرت آمیز تقریر

2018 میں پاکستان کے تمام انتخابات کے رجحان کے نتائج دیکھ کر جب عمران خان نے یہ اندازہ رکرلیا تھا کہ ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے امکانات موجود ہیں تو انہوں نے میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے بڑے لمبے چوڑے اور خوش ا ٓئند وعدے بھی کئے تھے۔ انہوں نے نئے پاکستان کا تصور پیش کرتے ہوئے ایک آئیڈیل نظام کی تشکیل کی بات بھی کہی تھی۔ بیشتر باتیں تو پاکستان کے گھریلو معاملات سے تعلق رکھتی تھیں لیکن انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تعلق سے بھی بعض سنجیدہ باتیں کہی تھیں۔ اس وقت یہ امید ضرور کی گئی تھی کہ وہ پڑوسی ملکوں سے اچھے تعلقات کو فروغ دینے میں سنجیدہ رویہ اختیار کریں گے اور ایسا انہوں نے اپنی تقریر میں کہا بھی تھا۔ حالانکہ عمران خان کی سیاسی پارٹی بہت معمولی اکثریت سے ہی حکومت بنا سکی لیکن بہر حال اس کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ کم از کم پر امن طور پر اقتدار کی منتقلی عمل میں آئی تھی۔ بہر حال وہ وزیر اعظم بنے اور ان کو اقتدار میں آئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا۔ پاکستان سے ملنے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں ان کی مقبولیت کا گراف دن بدن گرتا ہی جا رہا ہے کیونکہ ان کی  حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ عوام کی بے چینی بڑھتی جارہی ہے اور اقتصادی حالت بد سے بد تر ہوگئی ہے۔ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ تو خیر بڑھتا ہی جارہا ہے لیکن عوام پر ٹیکس مہنگائی اور افراط زر کی مار بھی پڑ رہی ہے۔ خیر یہ سب تو وہاں کے اندرونی معاملات ہیں۔ دوسرے ملکوں سے ان کا کیا سروکار ہوسکتا ہے لیکن پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اگر بات کی جائے اور خاص طور سے ہند–پاک رشتوں کا ذکر ہو تو صورت حال بڑی مایوس کن دکھائی دیتی ہے۔ ان کے وزیر اعظم بننے پر ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جب انہیں مبارکباد کا پیغام بھیجا تھا تو اس میں یہ امید بھی ظاہر کی تھی کہ دونوں ملک غریبی، ناخواندگی، بیماری اور سماجی برائیوں کے خلاف مل جل کر جدو جہد کریں گے لیکن یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ عمران کی توجہ ان باتوں پر کم اور ہند پاک کشیدگی کو بڑھاوا دینے پر زیادہ ہے۔ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہو کہ پاکستانی فوج او عمران خان بیشتر معاملات میں ہم خیال ہیں ا ور فوج عمران خان کو اپنا خاص ہمنوا تصور کرتی ہے۔ عمران خان سے پہلے کی جو حکومت تھی وہ کم از کم فوج کی بعض حکمت عملی کے خلاف اظہار بھی کرتی تھی۔ خاص طور سے دہشت گردی کے معاملے میں اس نے فوجی حکام کو کچھ سخت ہدایات دی تھیں جس کی پاداش میں نواز شریف اور ان کے خاندان اور پارٹی کو کئی طرح کی سخت منزلوں سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو عمران خان کا اس وقت وزیر اعظم ہونا پاکستانی فوج اور اس کی ایجنسیوں کے لئے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے۔ پاکستانی فوج اپنی ہندوستان دشمنی میں کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔چنانچہ یہ بات بطور خاص محسوس کی گئی ہے کہ جب سے عمران خان برسراقتدار آئے ہیں ہند پاک کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایل او سی پر جھڑپوں کی بات کی جائے یا در اندازی کی کوششوں کا ذکر ہو، پاکستان کی طرف سے مسلسل اشتعال انگیز کارروائیاں ہوتی رہی ہیں۔ اسی سال فروری کے مہینہ میں پلواما میں 40 سی آر پی ایف کے جوانوں کو شہید کیاگیاجس کی ذمہ داری بھی جیش محمد نے لی۔ بطور وزیر اعظم عمران خان نے بجائے اس گروپ کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے، قابل عمل ثبوت پیش کرنے کی رٹ لگانی شروع کی۔ غرضیکہ وزیر اعظم خان فوج کے ترجمان کا رول اد اکرنے لگے۔

لیکن حد تو اس وقت ہوگئی جب چند روز قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے تقریر کی تو ہندوستان کے خلاف نفرت آمیز باتیں کرنے اور دہشت گردوں کو اکسانے کے سوا کہنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ نہ صرف انہوں نے کشمیر کا ذکر چھیڑا بلکہ اندرونی معاملات کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اٹھایا بلکہ ہندوستان کی اندرونی سیاست کے بعض پہلوؤں پر بھی اشتعال انگیز باتیں کہیں۔ کشمیر سے متعلق انہوں نے جو کچھ کہا وہ براہ راست دہشت گرد عناصر کو ورغلانے اور اکسانے کے مترادف تھا۔ آخر اس جملے کا کیا مطلب ہے کہ جب کرفیو اٹھا لیا جائے گا تو خوں آشام منظر دیکھنے میں آئے گا؟ در اصل خون کی ہولی پاکستانی فوج اور اس کی ایجنسیاں دہشت گرد بھیج کر دہائیوں سے کھیلتی آئی ہیں۔ آج بھی ان کا یہ کھیل جاری ہے لیکن اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے وزیر اعظم پاکستان یہ کھلا ہوا پیغام دے رہے ہیں تخریب کار عناصر کو کہ وہ خونیں مناظر دکھانے کا اہتمام کریں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بالواسطہ نیو کلیائی جنگ کی دھمکی دینے میں بھی انہوں نے پس و پیش نہیں کیا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ میں تقریر کرتے وقت عمران خان نے خود ہی اپنا تعارف کرا دیا کہ وہ سفارتی اور سیاسی آداب سے کس حد تک واقف ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی ظاہر کردیا کہ پاکستان کی قیادت کو دنیا کے کسی مسئلہ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی کی اساس صرف اور صرف ہندوستان دشمنی ہے۔