عمران نے ایک حقیقت تو تسلیم کی لیکن دوسری کو نظر انداز کیا

حالانکہ  پاکستان کے حکمرانوں نے مختلف مواقع پر اور مختلف انداز سے اس بات کا اعتراف وقتاً فوقتاً کیا ہے کہ پاکستان میں مسلح دہشت گرد گروپ سرگرم ہیں لیکن پہلی بار یہ دیکھا گیا کہ ایک منتخب وزیراعظم نے امریکہ کی سرزمین پر ایک تھنک ٹینک کی میٹنگ میں کھلم کھلا یہ اعتراف کیا کہ اب بھی پاکستان میں 30 سے 40 ہزار مسلح دہشت گرد گروپ سرگرم ہیں جنہیں افغانستان اور کشمیر کے لئے ٹریننگ دی گئی تھی ۔ لیکن عمران خان نے ساراالزام اپنی پیشرو سویلین  حکومتوں کے سرمنڈھ دیا کہ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان وضع کرنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا اور ان گروپوں کو غیر مسلح کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ یہ بات کسی بھی اعتبار سے درست نہیں ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان گروپوں کو مسلح کرنے اور انہیں ٹریننگ دینے کی پوری کی پوری ذمہ داری پاکستانی فوج پر عائد ہوتی ہے جس نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر پورے طور پر اپنا قبضہ جما رکھا ہے اور اس خارجہ پالیسی کا ایک اٹوٹ حصہ ہندوستان دشمنی بھی ہے اور اسی کے تحت مسلح دہشت گرد گروپ خود پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے خفا ہو گئے اور  پاکستان کے اندر حملے کرنے لگے تو فوج نے ان کی درجہ بندی بھی شروع کر دی۔ جو گروپ ہندوستان اور افغانستان میں حملے کرتے تھے وہ اچھے گروپوں کے زمرے میں شامل کئے گئے اور جو پاکستان میں حملے کرتے تھے اور وہاں کی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے لگے وہ برے گروپ کے صفوں میں ڈال دیئے گئے ۔ تحریک طالبان یا پنجابی طالبان اور ان کے اتحادی اور معاون گروپ اسی زمرے کے دہشت گرد ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی کئی گروپ پاکستان میں موجود ہیں جو مسلکی بنیاد پر تشدد کو فروغ دیتے ہیں اور شیعوں ،احمدیوں یا دوسرے مسالک کے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔اب کچھ دنوں سے بریلوی مسلک کا ایک گروپ تحریک لبیک پاکستان بھی کافی سرگرم ہے ۔ غرضیکہ پاکستان بھانت بھانت کے انتہا پسندوں کا ایک مینابازار ہے۔ ان میں سے متعدد گروپ اقوام متحدہ کی جانب سے بین الاقوامی دہشت گرد گروپ قرار دیئے گئے ہیں ۔ ایسے ہی ممنوعہ گروپوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کو نہ روکنے کی پاداش میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں شامل کیا ہے اور اسے یہ سخت وارننگ بھی دی ہے کہ اگر اکتوبر کے پہلے پہلے ان گروپوں کی منی لانڈرنگ روکنے کے لئے مناسب قدم نہیں اٹھائے گئے تو پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ حافظ سعید کی حالیہ گرفتاری کی بھی اصل وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ کم از کم فوری طور پر ایف اے ٹی ایف کے عتاب سے بچا جا سکے لیکن عمران خان کے اس حالیہ انکشاف کے بعد کہ اب بھی 30 سے 40 ہزار مسلح دہشت گرد پاکستان میں موجود ہیں ، ایف اے ٹی ایف کو یہ موقع دے گا کہ وہ پاکستان کے اس اعتراف کو کس طور پر دیکھے کیونکہ ایف اے ٹی ایف کو کبھی پاکستان نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اب بھی اتنی بڑی تعداد میں مسلح دہشت گرد پاکستان میں سرگرم ہیں ۔ 

عمران خان نے اپنی پیشرو حکومتوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ان گروپوں کو غیرمسلح بنانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی ، تو یہاں پاکستان کے کچھ ھالیہ واقعات کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ یہ زیادہ دن کی بات نہیں ہے 2016 میں نواز شریف حکومت کے اعلیٰ حکام اور چیف آف دی آرمی اسٹاف و دیگر اعلیٰ فوجی افسران کے مابین جو بند دروزے کے اندر میٹنگ ہوئی تھی اس میں سویلین حکام نے فوجی حکام سے کہا تھا کہ وہ مسلح دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کریں تو فوج نے ایک طوفان سا کھڑا کر دیا تھا اور نواز شریف کے خلاف منصوبہ بند طور پر طرح طرح کی کارروائیاں ہونے لگیں جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ چونکہ اخبار ڈان نے اس کلوزڈ ڈور میٹنگ کی رپورٹ لیک کی تھی اس لئے اس اخبار اور اس کے متعلقہ صحافی کے خلاف بھی فوج کی قیادت میں کریک ڈاؤن کیا گیا۔ 

نواز شریف جیل میں ہیں لیکن اب نواز شریف اور ان کی پارٹی اقتدار میں نہیں ہے۔ ایسے ہی وقت میں موجودہ وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف دہشت گردوں کے وجود کا اعتراف کیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ان کی حکومت ان گروپوں کو غیر مسلح بنانے کے لئے قدم اٹھا رہی ہے تو یہی سمجھا جائے گا کہ فوج کی طرف سے انہیں گرین سگنل مل چکا ہے کیونکہ حکومت اور فوج دونوں کی طرف سے یہی تاثر دیا جا رہا  ہے کہ اس وقت یہ دونوں بالکل ہم خیال ہیں۔ دوسری طرف عالمی برادری کی پاکستان پر سخت نظر ہے ۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سےمسلسل دباؤ ہے کہ موثر کارروائی کے بغیر مفر ممکن نہیں ۔ ان تمام باتوں کو اگر سامنے رکھا جائے اور دہشت گردی کے تعلق سے پاکستانی فوج کا جو رویہ رہا ہے اس پر غور کیا جائے تو ایسی کوئی واضح تصویر ابھر کر نہیں آ رہی ہے کہ عنقریب پاکستان میں کیا ہونے جا رہا ہے۔