پاکستان کی حقیقت بیانی

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے ملک میں 40 دہشت گرد کیمپ موجود تھے اور پاکستان کی سرزمین پر اس وقت 40 ہزار دہشت گرد سرگرم ہیں ۔ پاکستانی وزیراعظم کا یہ اعتراف واشنگٹن کے ان کے حالیہ دورے کے دوران آیا جہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سابقہ حکومتوں نے امریکہ کو کبھی بھی حقیقت سے آگاہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ  پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں امریکہ کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا 9/11سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ القاعدہ اس وقت افغانستان میں سرگرم تھا اور پاکستان میں طالبان سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی عسکریت پسند موجود نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ بد قسمتی سے جب صورتحال بگڑ گئی تو اس وقت ہم نے امریکہ کو زمینی حقیقت سے آگاہ نہیں کیا۔ کیپیٹول ہل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امریکہ سے سچ چھپانے کیلئے سابقہ حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ امریکہ کے اپنے تین روزہ دورے کے دوران واشنگٹن  میں یونائیٹیڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ایک دوسری تقریب میں انہوں نے کہا کہ ان کے ملک میں ابھی بھی 30 سے 40 ہزار کے درمیان دہشت گرد موجود ہیں جنہوں نے افغانستان یاکشمیر میں تربیت لے کر وہاں دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لیا۔ 

ہندوستان نے عمران خان کے بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات کسی سے چھپی نہیں تھی بلکہ نئی دہلی تو ہمیشہ سے یہی بات کہتا رہا ہے اور اب پاکستانی وزیراعظم کے بیان سے ہندوستان کے موقف کی تائید ہوتی ہے ۔ ہندوستان نے کہا کہ اب پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف معتبر اور سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ نائب صدر وینکیا نائیڈو نے ایک بیان میں پاکستانی وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پڑوسی سمیت کچھ ملکوں نے دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کو قومی پالیسی بنا رکھی ہے ۔ تاہم پاکستانی وزیراعظم نے واشنگٹن میں وہ سچائی اگلی جس کے بارے میں دنیا جانتی ہے۔ عمران خان نے یہ تو بتا دیا کہ ان کے ملک میں 30 سے 40 ہزار کے درمیان دہشت گرد موجود ہیں ۔لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف ان کی حکومت نے کیا کارروائی کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران خان نے واشنگٹن میں دیئے گئے اپنے بیان مین دہشت گردوں کی جو تعداد بتائی ہے، وہ اس تعداد سے کہیں زیادہ ہے جو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو دی گئی ہے۔ پاکستان کے انسداد دہشت گردی قانون کے شیڈول ۔چار میں حکومت  کی جانب سے صرف آٹھ ہزار سرگرم دہشت گردوں کے نام درج ہیں۔ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں پہلے ہی شامل ہے اور ایکشن پلان کے مطابق وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا تو اکتوبر میں اسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے ایک تجزیہ کار کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے بیان کا اثر اسلام آباد کے ان دعووں پر پڑے گا جو اس نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی سے متعلق کیا ہےاور عمران خان کے اس بیان سے ہندوستان جیسے ملکوں کو ایف اے ٹی ایف کی آئندہ میٹنگ میں دہشت گردی کا معاملہ اٹھانے کا موقع مل جائے گا۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ دہشت گردی کے بارے میں صاف صاف بول کر عمران خان نے تنازعہ پیدا کردیا ہے۔ اس سال اپریل میں بھی تہران میں صدر حسن روحانی کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ایران مخالف دہشت گرد گروپ پاکستان کی سرزمین پر سرگرم ہیں جس کے لئے پاکستانی پارلیمنٹ میں ان پر سخت تنقید کی گئی تھی۔

پاکستان کے ساتھ کبھی گرم تو کبھی سرد رشتے رکھنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کامیاب نہیں رہی ہے۔ گزشتہ برس ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے لئے ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کی فوجی اور سول امداد روک دی تھی جس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کافی خراب ہوگئے تھے لیکن عمران خان کے واشنگٹن کے حالیہ دورے کے بعد واشنگٹن کے رویہ میں کچھ تبدیلی نظر آنے کی امید ہے۔

امریکہ افغانستان سے جلد از جلد نکلنا چاہتا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو بخوبی معلوم ہے کہ افغانستان پر پاکستان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کا پورا کنٹرول ہے۔ اس لئے واشنگٹن افغان طالبان کے ساتھ  کسی معاہدے پر پہنچنے کے لئے اسلام آباد کی مدد چاہتا ہے۔ پاکستان کی مدد سے امریکہ طالبان کے ساتھ بات چیت کررہا ہے۔ پاکستان کا گیم پلان ہے امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ کراکے امریکی فوجوں کی واپسی کا راستہ ہموار کرنا اور اس کے بعد افغانستان کی سیاست میں کنگ میکر کا کردار ادا کرنا۔ اگر ایسا ہوا تو اس سے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ آس پاس کے تمام علاقوں کی سلامتی پر سنجیدہ مضمرات مرتب ہوسکتے ہیں۔