ہندوستانی معیشت کے بڑھتے قدم

ہندوستان نہایت تیزی کے ساتھ اقتصادی ترقی کی راہ پر گامز ن ہے۔ یہ اس وقت دنیا کی تیز ترین معیشت ہے۔ ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح سات اعشاریہ چار(7.4) فیصد تک پہنچ گئی ہے جو دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیز ترین شرح ترقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے 2025تک پانچ کھرب ڈالر کی معیشت بننے کا عزم کررکھا ہے۔

گذشتہ سال کے اقتصادی جائزہ کے مطابق ہندوستانی معیشت نے پچھلے پانچ برسوں کے دوران کافی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک طرف جہاں دنیا کی جی ڈی پی 2014اور 2018 کے درمیان تین اعشاریہ چھ فیصد کی شرح سے بڑھی، وہیں ہندوستان نے لمبی چھلانگ لگائی اور چین سے زیادہ پائیدار شرح ترقی کی بنیاد پر دنیا بھر میں چھٹی سب سے بڑی معیشت بن گئی۔ اس کے علاوہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران افراط زر کا اوسط سابقہ پانچ برسوں کی افراط زر کے اوسط سے کم رہا۔ افراط زر کا یہ اوسط ملک کی تاریخ میں آزادی کے بعد سب سے نچلی سطح پر رہا۔ہندوستان کی معیشت اس سال تین ٹریلین ڈالر کی ہوجائے گی اور 2025تک یہ پانچ ٹریلین ڈالرتک پہنچ سکتی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ہندوستان اقتصادی ترقی کی راہ پر جس تیزی سے گامزن ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ ہدف کچھ مشکل نہیں ہے۔پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے لئے حکومت نے ان شعبوں کا انتخاب کرلیا ہے جن میں وسائل لگائے جائیں گے‘ پالیسیاں اور قوانین بدلے جائیں گے اور موجودہ ضابطوں میں ترمیم کی جائیں گی۔حکومت نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے اقدامات شرو ع کردئے ہیں۔ اس کے تحت ہر سال 20لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے تمام پروجیکٹوں کو مقررہ وقت پر پورا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔اور اس کی نگرانی کے لئے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی۔ ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ اگر مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں حسب توقع اضافہ ہوا اور تمام پروجیکٹ وقت پر پورے ہوئے تو ملک کی معیشت میں مزید تیزی یقینی ہے اور پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنا آسان ہوجائے گا۔

اقتصادی ترقی کی درجہ بندی کر نے والی کئی ایجنسیوں اور تھنک ٹینک نے پیشن گوئی کی ہے کہ ہندوستان آئندہ چند برسوں میں مزید ترقی سے ہمکنار ہوگا۔ انفرااسٹرکچر کی مضبوطی اورمتعدد اقتصادی اصلاحات کی بنا پر موڈیز (MOODYS) نے ہندوستان کو حالیہ درجہ بندی میں مستحکم قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے بھی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بھی کہا ہے کہ 2019میں ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی شرح سات فیصد رہے گی اور 2020میں بڑھ کر 7.2 فیصد ہوجائے گی۔آئی ایم ایف نے گذشتہ برس بھی ہندوستان کو دنیا کی تیزترین ترقی کرتی ہوئی معیشت کا اعزاز دیا تھا۔

عالمی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی معیشت مجموعی طور پر مثبت اشارے دے رہی ہے، جس کی وجہ سرمایہ کاری میں استحکام اور پرائیویٹ سطح پر اخراجات میں مضبوطی دیکھی گئی ہے۔آئی ایم ایف نے حکومت کی طرف سے اشیا اور خدمات پر قومی سطح پر ٹیکس نافذ کرنے کے فیصلے کو بھی سراہا ہے، جس کا مقصد ملک میں سنگل مارکیٹ کی تخلیق ہے۔آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں ہندوستان میں بیرونی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کی پالیسیوں کی ستائش بھی کی ہے۔ تاہم زور دیا گیا ہے کہ ابھی ہندوستان کی حکومت کو اس ضمن میں مزید اقدامات کرنے چاہییں۔ اس عالمی ادارے کے مطابق تجارت کو مزید لبرلائز کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے نتیجے میں ہندوستان میں نہ صرف اقتصادی ترقی کی رفتار زیادہ بہتر ہو گی بلکہ اس کا فائدہ عوام کو بھی ہوگا۔

بلوم برگ نیوز کے مطابق ہندوستان کی اقتصادی ترقی میں وزیراعظم مودی کی حکومت کی پالیسیاں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ ملکی اقتصادی ترقی کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ ٹھوس اقدامات کریں گے اور ہندوستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو زیادہ آسان بنائیں گے۔حکومت نے اس ضمن میں متعدد قابل تحسین اقدامات کئے ہیں۔

ہندوستان میں اقتصادی منصوبہ تیار کرنے والے ادارہ نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین راجیو کمار کا کہنا ہے کہ ہندوستان 2020-21 میں آٹھ فیصد سے زیادہ اقتصادی ترقی کی شرح حاصل کرلے گا۔ حکومت اگلے پانچ سال میں ملک کی اقتصادی ترقی کی موجودہ شرح سات فیصد سے بڑھا کر آٹھ فیصد کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔اس سے ملک کو پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے میں آسانی ہوگی۔ اس کے لئے بنیادیں رکھ دی گئی ہیں اور پچھلے چند برسوں کے دوران جو اقتصادی اصلاحات کی گئی ہیں ان کے نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین کا کہنا ہے کہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان کے پاس 10فیصد سے زیادہ کی شرح سے اقتصادی ترقی کرنے کی صلاحیت ہے۔

امید کی جانی چاہئے کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب ہندوستان اپنی اقتصادی ترقی کی صلاحیت کی بنیاد پر دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں سرفہرست مقام حاصل کرلے گا۔