افغانستان کی غیر یقینی صورت حال 

ایک طرف دوحہ میں امریکی اور طالبان نمائندوں کے مابین افغانستان میں قیام امن سے متعلق مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے، جو بعض رپورٹوں کے مطابق اپنے آخری مرحلوں میں ہے تو دوسری طرف اندرون افغانستان صورت حال دن بدن ناگفتہ بہ ہوتی جارہی ہے۔ 28ستمبر کو صدارتی انتخاب ہونے والا ہے لیکن تشدد اور دھماکوں کا ایک ایسا لا متناہی سلسلہ چل رہا ہے کہ ایسے ماحول میں قیام امن کی باتیں دیوانوں کے خواب جیسی لگتی ہے۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے ساتھ ساتھ ہر روز افغانستان میں ایسے دردناک واقعات بھی پیش آرہے ہیں کہ قیام امن کے سوال پر ہر روز سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ اگرچہ صدارتی انتخاب کو اب دو مہینہ سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے لیکن صحیح معنوں میں انتخابی مہم شروع بھی نہیں ہوسکی ہے۔ خودکش بمباریوں ، بمباریوں اور شوٹنگ کے واقعات ہر طرف پیش آرہے ہیں اور درجنوں کے حساب سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ سویلین، سرکاری عملہ، سیکورٹی فورسز اور پولیس حکام۔ کوئی بھی محفوظ نظر نہیں آتا۔ ابھی گزشتہ اتوار کو وسطی کابل میں زبردست دھماکہ ہوا نیز گولیاں چلیں، جن میں 20سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی بھی ہوئے۔ خود صدر اشرف غنی کے دوست اور ان کی انتخابی ٹیم کے دست راست امر اللہ صالح بھی شدید طور پر زخمی ہوئے جو نائب صدر کے عہدے کے لئے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ یہ حملہ پرائیویٹ غالب یونیورسٹی کے قریب ایک شاہراہ اور شاہد اسکوائر کے قریب ہوا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق دھماکہ کے فوراً بعد بندوق بردار یونیورسٹی کی عمارت میں داخل ہوگئے اور امراللہ صالح کے سیاسی دفتر کونشانہ بنانا شروع کیا، جس میں وہ بری طرح زخمی ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ مسٹر صالح بطور خاص طالبان کے نشانے پر ہیں کیونکہ وہ طالبان اور دوسرے تمام دہشت گرد گروپوں کے سخت خلاف رہے ہیں۔ تاجک نسل کی اقلیت میں ان کے حامیوں کی اکثریت ہے اور یہ اقلیت اکثر طالبان کے نشانے پر رہی ہے۔

لیکن طالبان اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کا نشانہ صرف صدر اشرف غنی اور ان کے حامی ہی نہیں بن رہے ہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے خلاف تشدد کا بازار گرم ہے جو آنے والے صدارتی انتخاب میں کسی نہ کسی گروپ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وہ تمام امیدوار بھی اپنے لئے خطرہ محسوس کر رہے ہیں جو صدارتی انتخاب میں اشرف غنی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ پیر کے روز ایسے صدارتی امیدواروں کے گروپ نے اشرف غنی حکومت پر بھی الزام لگایا کہ ان کی حکومت سیکورٹی کے پختہ انتظامات کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث نہ صرف سویلین ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں بلکہ تمام سیاسی حلقے ،سرکاری عمارات  اور تنصیبات نیز سیکورٹی سے وابستہ عملہ بھی نشانہ بن رہا ہے۔ اگر افغانستان کے موجودہ سیاسی حالات اور سیکورٹی سے متعلق صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ اس وقت شاید کسی کو بھی افغانستان کے حالات کی فکر نہیں ہے۔ اگر سیکورٹی کی بات کی جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حکومت اس پوزیشن میں نظر نہیں آتی کہ دہشت گردانہ حملوں کو پورے طور پر روک سکے۔ اس حقیقت کی غمازی تو وہاں کے روز مرہ کے حملوں سے بھی ہوتی ہے۔ 

اگراس  پس منظر میں اس بات کا تصور کیا جائے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان بات چیت کا سلسلہ مکمل ہوگیا اور امریکہ کی طرف سے یہ اعلان ہوگیا کہ وہ اپنی فوجیں کلی طور پر واپس بلا لے گا تو اس کے بعد کا منظرنامہ کیا ہوگا؟ کیا طالبان موجودہ حکومت سے کوئی بات چیت کریں گے اور اگر کریں گے تو ان کی شرائط کیا ہوں گی؟ اس ضمن میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا طالبان ، حکومت کو خاطر میں لائیں گے؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ 28ستمبر کو جو صدارتی انتخاب ہونے والا ہے، وہ ہو بھی پائے گا یا نہیں؟ یہ اور اس طرح کے تمام سوالات فی الحال تشنۂ جواب لگتے ہیں۔ صورت حال انتہائی الجھی ہوئی نظر آتی ہے۔ کیا امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے سمجھوتے کے بعد افغانستان میں واقعی امن قائم ہونے والا ہے؟ جس زاویہ سے بھی دیکھا جائے ، کہیں سے کوئی امید افزا بات دکھائی نہیں دیتی۔ ادھر افغان عوام کا ایک بہت بڑا حلقہ انتہائی ڈرا اور سہما ہوا ہےکیونکہ اسے یہ خوف لاحق ہے کہ افغانستان میں ایک بار پھر ویسی ہی انتظامیہ قائم ہونے والی ہے، جیسی 90کی دہائی کے وسط میں قائم ہوئی تھی!