پاکستان کو دھوکہ دینے کی اپنی روش بدلنے کی ضرورت

کرگل جنگ جہاں ایک طرف ہندوستان کے خلاف پاکستان کی منصوبہ بند سازشوں میں سے ایک سازش تھی وہیں دوسری طرف ہندوستانی افواج کی شجاعت و بہادری کا ایک جیتا جاگتا نمونہ بھی تھی۔ پاکستانی فوج نے جس طرح شب کی تاریکیوں میں دنیا کی بلندو بالا چوٹیوں پر قبضہ کرنے کی ناکام و ناپاک کوشش کی اس کا یہی انجام ہونا تھا۔ ہندوستانی جوانوں نے جس جاں بازی وجاں نثاری کا مظاہرہ کرکے اس منصوبہ بند سازشوں کو ناکام بنایا وہ تاریخ کا ایک روشن باب بن گیا ہے۔ اس جنگ میں ہندوستان کی شاندار کامیابی یہاں کی مسلح افواج کے بے شمار تمغوں میں ایک دیدہ زیب تمغہ ہے۔ یہ جنگ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پاکستان شروع سے ہی ہندوستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس نے ہمیشہ منہ کی کھائی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کی روش میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ خواہ وہ ممبئی پر ہونے والا خوفناک دہشت گردانہ حملہ ہو جس میں 166 افراد کی جانیں ضائع ہوئی تھیں یا پھر حالیہ برسوں میں پٹھان کوٹ، اڑی اور اب پلوامہ میں دہشت گردانہ اور خود کش حملے ہوں۔ حافظ سعید کو پوری دنیا ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھتی ہے۔ پلوامہ کا خود کش حملہ جس میں 40 جوانوں کی شہادت ہوئی، جیش محمد نامی دہشت گرد گروپ نے کیا تھا۔ اس نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ ان واقعات کے علاوہ جموں و کشمیر میں آئے دن جو دہشت گردانہ حملے ہو رہے ہیں ان میں کسی نہ کسی طرح پاکستان ملوث رہتا ہے۔ حالانکہ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ان حملوں کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا۔ کہنے کو تو وہاں کی حکومت نے متعدد دہشت گردانہ آپریشن چلائے ہیں اور کئی دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا ہے جن میں حال ہی میں حافظ سعید کی گرفتاری بھی شامل ہے لیکن در حقیقت ماجرا کچھ اور ہے۔ حکومت پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کوئی ٹھوس اور موثر کارروائی کر ہی نہیں سکتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دہشت گرد گروپوں کے ساتھ خود پاکستانی فوج کے بعض عہدے داروں کے بڑے گہرے روابط ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان گروپوں کے خلاف کوئی ایسی کارروائی ہو جو ان کے خاتمے کا سبب بنے۔ اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ پاکستان میں اقتدار کی اصل باگ ڈور فوج ہی کے ہاتھ میں رہی ہے اور اب بھی ہے۔ اگر چہ وزیر اعظم عمران خان نے حالیہ دورۂ امریکہ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے دہشت گرد گروپوں کے تعلق سے دروغ گوئی سے کام لیا ہے اور یہ کہ اب بھی چالیس تربیتی کیمپ موجود ہیں لیکن کیا وہ ان کیمپوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کی جرأت کر سکیں گے۔ جس طرح پہلے کی پاکستانی قیادتوں نے اپنے بیانات سے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اسی طرح عمران خان کا یہ بیان بھی ہے۔ ورنہ اگر وہ مخلص ہیں اور ان کو چالیس کیمپوں کا علم بھی ہے تو ابھی تک انھوں نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے تو اس نے ہمیشہ اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔ اس کی جانب سے دوستی کی کوششوں کی متعدد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ خود کرگل جنگ ہندوستان کے دوستی کے ہاتھ کے جواب میں پاکستان کا ہلاکت خیز تحفہ تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی دوستی کی بس لے کر لاہور گئے تھے اور اس کے جواب میں ہندوستا ن کو کرگل جنگ ملی۔ اسی طرح جب موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی افغانستان کے سفر سے واپسی پر پاکستان اتر گئے اور انھوں نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور ان کی والدہ سے آشیرواد لیا تو اس کے جواب میں پٹھان کوٹ اور اڑی کے واقعات ہوئے۔ بہر حال وزیر اعظم نریندرمودی نے کرگل جنگ کی بیسویں سالگرہ پر جسے وجے دوس یعنی یوم فتح کے نام سے منایا جاتا ہے، بجا طور پر کہا کہ جن کو جنگوں میں شکست ملی وہ ہندوستان کے خلاف درپردہ جنگ چھیڑے ہوئے ہیں اور دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہشت گردی کو ہندوستان کے خلاف پاکستان کی خفیہ جنگ قرار دیا۔ ان کے مطابق اب جنگ کی شکل بدل گئی ہے۔ دہشت گردی انسانیت کے خلاف جنگ ہے۔ لہٰذا دنیا کے تمام ملکوں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ جب تک تمام ملک متحد ہو کر نہیں لڑیں گے اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔ اسی کے ساتھ انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ہندوستان کسی بھی قسم کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہے اور جس طرح سابقہ جنگوں میں یہاں کی مسلح افواج نے شجاعت و بہادری کی مثالیں پیش کی ہیں آئندہ بھی پیش کریں گی۔ بہتر ہوتا کہ پاکستان اپنے رویے کو تبدیل کرتا اور ہندوستان کے دوستی کے ہاتھ کو تھام لیتا تو آج لاتعداد بے قصوروں کی ہلاکت نہیں ہوئی ہوتی۔ اب بھی وقت ہے کہ وہ دھوکہ دینے کی اپنی روش بدلے اور دہشت گردی کی واردتیں بند کرائے تاکہ دونوں ملکوں میں بات چیت کے نئے دور کا آغاز ہو اور یہ خطہ امن و سلامتی کا گہوارہ بنے۔