اقوام متحدہ کی رپورٹ: خوف کے ماحول میں سانس لیتے افغان عوام

صورتحال کی سنگینی ان رپورٹس سے کچھ اس طرح واضح ہوجاتی ہے کہ کسی وضاحت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی کہ افغان عوام اس وقت خوف ، مایوسی اور ناامیدی کے کس ماحول میں سانس لے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ عام  ہونےکے بعد اِدھر صرف چھ ماہ کے عرصہ میں افغان سیکوریٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی لڑائی میں 3812 افغان سیویلین ہلاک اور زخمی ہوئے، فوراً یہ خبر آئی کہ افغان امن مذاکرات کے لئے امریکہ کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد طالبان سے اگلے اور انتہائی اہم راؤنڈ  کی بات چیت کے لئے دوحہ روانہ ہورہے ہیں۔ لیکن اسی خبر کے ساتھ ساتھ یہ دل دہلا دینے والی خبر بھی موصول ہوئی کہ ہرات اور قندھار صوبوں کی راجدھانیوں کو جوڑنے والی شاہراہ پر واقع آب خورمہ علاقے میں ایک بس پر زبردست دھماکہ ہوا جس میں 35 افراد جاں بحق اور تقریباً 30  افراد شدید طور پر زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کمسن بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ پولیس کے ترجمان محب اللہ محب کا دعویٰ ہے کہ یہ بم طالبان نے نصب کیا تھا تاکہ افغان اور غیرملکی فوجوں کو نشانہ بنایا جاسکے لیکن طالبان نے اس واردات میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ بہرحال یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب اس بات کا بڑا چرچہ ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد امریکہ اور اس کی قیادت میں غیرملکی فوجیں افغانستان سے واپس چلی جائیں گی اور 18  سال سے جاری یہ جنگ بالآخر اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔ اس کے عوض طالبان امریکہ کو اس بات کی یقین دہانی کرائیں گے کہ وہ ان فوجوں کی پرامن واپسی کو یقینی بنائیں گے اور افغانستان کی زمین کو دہشت گردی کے لئے نہیں استعمال ہونے دیں گے۔ بہرحال یہ تو ان مذاکرات کا مقصد بتایا جارہا ہے۔ ادھر اقوام متحدہ نے افغان عوام کی بے بسی اور آئے دن کی ہلاکتوں پر اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغان سیکوریٹی فورسز اور غیرملکی فوجوں سے طالبان کی ہونےو الی محاذ آرائی کے درمیان افغانستان کے عام شہری بے وجہ پس رہے ہیں ایک طرف بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ سفارتی سرگرمیاں بھی متوازی طور پر چل رہی ہیں تاکہ افغان مسئلہ کا پُرامن حل نکالا جاسکے۔ یو این اسسٹینس  مشن ان افغانستان کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپوں میں سیویلین آبادی ہلاک اور زخمی ہورہی ہے اور یہ روز مرہ کا معمول بن کر رہ گیا ہے۔ طالبان کی طرف سے جو خودکش حملے ہورہے ہیں یا جو بم پلانٹ کئے جارہے ہیں ان میں بھی عام شہری نشانہ بن رہے ہیں اور جوابی حملوں میں سیکوریٹی فورسز اور غیرملکی فوجوں کی طرف سے جو ہوائی اسٹرائک ہورہی ہے اس کا قہر بھی عام لوگوں پر نازل ہورہا ہے۔ اس سال یکم جنوری اور 30 جون کے درمیان یعنی چھ ماہ کے عرصہ میں طالبان اور داعش نے 531 عام شہریوں کو ہلاک اور 1437 کو زخمی کیا ہے جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں 985 افراد نشانہ بنے۔ یہ حملے دانستہ طور پر کئے گئے تھے۔ ان میں سرکاری ملازمین قبائلی بزرگ اور ورکرز اور مذہبی اسکالرز ہلاک ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کے حملوں یا جوابی حملوں میں 717 افغان شہری ہلاک اور 680 زخمی ہوئے۔ گزشتہ سال کے اسی مدت میں ہونے والے حملوں میں جو لوگ ہلاک ہوئے تھے ان کے مقابلے اس سال 31فیصد کا اضافہ ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں 144 عورتیں اور 327 بچے شامل تھے جبکہ زخمی ہونے والے بچوں اور عورتوں کی تعداد ایک ہزار تھی۔ ہوائی حملوں میں متاثر ہونے والے شہریوں کی تعداد 519 تھی جن میں 150 بچے تھے۔ اس تنازعہ میں ملوث فریقین کے اپنے اپنے دعوے ہیں اور ہر فریق اپنی کارروائیوں کے لئے کوئی نہ کوئی جواز پیش کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ محض بین الاقوامی  قوانین کا پاس کرنا ہی ضروری نہیں بلکہ ایسے حالات میں اس بات کا خاص طور سے دھیان رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس بات کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہئے کہ عام شہریوں کو کوئی گزند نہ پہنچنے پائے۔ ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اس سے افغانستان میں تعینات امریکی فوجوں کے ترجمان کا قدرے اختلاف ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ غیرملکی فوجوں نے پوری کوشش کی ہے کہ عام شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ لیکن ان متضاد دعووں کے باوجود یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس وقت نصف سے زیادہ افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد کبھی بھی ان کی حیثیت اتنی مضبوط نہیں تھی۔ ان کے حملے اب بھی جاری ہیں اور صورتحال واضح نہیں ہے کہ امریکہ سے سمجھوتہ ہوجانے کے بعد افغانستان کا اگلا منظرنامہ کیا ہوگا!۔