جنوبی بحیرۂ چین میں پیدا ہوتی کشیدگی

جنوبی بحیرۂ چین میں پیدا ہوتی  کشیدگی کے باعث یہ علاقہ ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ اس وقت تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینگ کاک میں آسیان ملکوں کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ ہورہی ہے اور بہت ممکن ہے کہ میٹنگ میں جنوبی بحیرۂ چین کے موضوع پر تبادلۂ خیال کیا جائے۔ اس میٹنگ میں ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی شرکت کررہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں اس علاقہ میں جو کچھ ہوا اس پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اس سال جولائی کے پہلے ہفتے میں چینی جہاز ہییانگ ڈیزی-8  نے ویتنام کے اکنامک زون کے 200 ناٹیکل میل کے اندر اس بات کا جائزہ لیا کہ وہاں زلزلہ آسکتا ہے یا نہیں۔ اس جہاز کے ساتھ چین کے ساحلی گارڈ کے دو جہاز بھی تھے۔ چین کے اس اقدام سے پورے علاقے خاص طورپر ہنوئی میں تشویش پیدا ہوگئی۔ چین، تائیوان اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک برونئی، ملیشیا، فلپائن اور ویتنام کے اس علاقے پر اپنے اپنے دعوے ہیں اور اس کی سرحد کو لے کر چین کے ساتھ یہ سب سے لمبا اور پرانا تنازعہ ہے۔

اس علاقہ میں چین کے برتاؤ کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے دعوے کو ترک نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی متعلقہ ملک کو اس سلسلہ میں کوئی مراعات دے گا۔ اگرچہ صدرراؤڈریگو دوتیرتے کی قیادت میں فلپائن نے اپنے دعوی پر زور دینا کسی حدتک چھوڑدیا ہے۔لیکن  ویتنام جنوبی بحیرۂ چین سے متعلق اپنے موقف پر ابھی بھی بنا ہوا ہے۔ یہ علاقہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہاں سمندر کی تہہ کے نیچے کم از کم گیارہ ارب بیرل تیل اور 190 ٹریلین کیوبک فٹ قدرتی گیس موجود ہے۔ اس کے علاوہ مواصلات کے لیے یہ ایک اہم بحری راست ہے جہاں سے چین کی درآمدات کا 80 فیصد حصہ یہیں سے ہوکر جاتا ہے۔

ویتنام نے اس معاملہ میں کافی عرصہ تک صبروتحمل سے کام لیا ہے۔ لیکن اب وہ اس مسئلہ کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ اس بار اس نے اس معاملہ پر بین الاقوامی برادری سے حمایت طلب کی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کا اس تنازعہ سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ تنازعہ سے جڑے ہوئے کسی ملک کا ساتھ دے رہا ہے ہاں یہ بات ضرور ہے کہ علاقہ میں اس کے اپنے مفادات ہیں۔ جنوبی بحیرۂ چین ہندوستان کے لیے اس لیے اہم ہے کیوں کہ یہاں اس کی کمپنی آئل اینڈ نیچورل گیس کارپوریشن کے اپنے تجارتی مفادات ہیں۔

بین الاقوامی قوانین کے مطابق اس علاقہ میں جہاز رانی کی آزادی اور بے خلل قانونی تجارت کا تحفظ ہی ہندوستان کی پالیسی رہی ہے۔ویتنام نے جنوب مشرقی ایشیا کے علاقے میں ہندوستان کی موجودگی کا ہمیشہ خیرمقدم کیا ہے۔ ہندوستان اور ویتنام کے درمیان خوشگوار اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ ویتنام ہندوستان کو ایک قابل اعتبار اور فطری پارٹنر سمجھتا ہے۔ ہندوستان ان تین ملکوں میں سے ایک ہے جن کے ساتھ ویتنام کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان اعلی سطح کا سیاسی اعتماد ہے۔جنوب مشرقی ایشیاکے ملکوں میں ہندوستان کو ایک ذمہ دار طاقت تصور کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے چین اور ویتنام دونوں کے ساتھ مضبوط رشتے ہیں۔ان مضبوط رشتوں کے باعث ویتنام کا مواصلات کے اپنے اہم بحری راستے کے تحفظ کے لیے ہندوستان کی طرف دیکھنا ایک فطری بات ہے۔

ماضی میں فلپائن اورویتنام دونوں اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ جنوبی بحیرۂ چین کےموضوع پر چین کے ساتھ کثیر رخی بات چیت ہونی چاہیے لیکن اب یہ دونوں ممالک دوطرفہ مذاکرات کے لیے بھی تیار نظر آتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مسئلہ کے حل کے لیے ہی بہتر راستہ ہوسکتا ہے۔

اگرچہ ہندوستان اور ویتنام اسٹریٹجک شراکت دار ہیں تاہم نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان بھی اچھے رشتے ہیں۔ ہندوستان نے آسیان کی مرکزیت پر ہمیشہ زور دیا ہے اور وہ جلد از جلد جنوبی بحیرۂ چین پر کوڈ آف کنڈکٹ پردستخط کرنے کیلئے زور دے رہا ہے۔ نئی دہلی نے تمام متعلقہ ممالک سے صورت حال کو جوں کا توں بنائے رکھنے کی بھی اپیل کی ہے۔ اگرچہ کوڈ آف کنڈکٹ وہ دستاویز ہے جس کی قانونی طورپر کوئی اہمیت نہیں ہے تاہم اس سے چین اورجنوب مشرقی ایشیا کے تنازعہ سے جڑے دیگر مملکوں کے درمیان اعتماد سازی میں مدد ضرور ملے گی۔