پاکستانی میڈیا پر سنسرشپ کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج

زیادہ دن کی بات نہیں ہے جب عمران خان اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے پاکستان میں احتجاجی مظاہرے کرنے کے لیے مشہورتھے۔ اسلام آباد میں انہوں نے انتخابی دھاندلی کے خلاف جومظاہرے کیے تھے ان میں تو انہوں نے جمہوری طریقوں تک کو بالائے طاق رکھ دیاتھا اور ان کے حامی اور خود انہوں نے بھی لاقانونیت پر مبنی طریقے بھی اختیار کیے تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے زوال کے بعد 2008 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں حکومت بنی تھی تب بھی وہ سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے اور اس کے پانچ سال بعد جب پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت بنی اور وہ اقتدار سے کوسوں دور رہ گئے تھے تب بھی سوائے احتجاج کے انہوں نے اور کچھ نہیں کیا تھا جب کہ وہ سیاسی لیڈر تھے اور ان کی اولین ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ان کوششوں میں معاونت کرتے جو جمہوریت کو مستحکم بنانے میں معاون ہوتیں لیکن ان کی سیاسی سرگرمیوں کا طرہ ٔ امتیاز یہ تھا کہ وہ صرف پاکستانی فوج کو ایماندار اور برائی اورلغزش سے پاک ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا کرتے تھے اور اس کے برعکس اپنے سوا تمام سیاست دانوں کو کرپٹ اور بے ایمان بتایا کرتے تھے۔ پاکستان کے لوگ یہ بھی نہیں بھولے ہیں کہ انہوں نے دہشت گردوں کے حملوں کے خلاف بھی کوئی بیان نہیں دیا اور پچھلی حکومتوں کو یہ کہہ کرکوسا کرتے تھے کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور عالمی برادری کا اتحادی بن کر پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ انہیں طالبان خان کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ ان کے اسی طرز سیاست نے انہیں پاکستانی فوج کا سب سے بڑا سیاسی اتحادی بنادیا۔ پھر قسمت نے یاوری کی اور فوج کے تعلقات نواز شریف کی حکومت  سے خراب سے خراب تر ہوتے گئے اور بالآخر نواز شریف کو حکومت سے بھی استعفی دینا پڑا۔ لیکن ان کی پارٹی کی حکومت بہرحال قائم رہی۔ گزشستہ سال جو عام انتخابات ہوئے ان میں فوج نے بالواسطہ عمران خان کی پارٹی کو برسراقتدار لانے کے تمام جتن کیے۔ اخباروں پر تقریبا سنسرشپ نافذ رہی اور میڈیا پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ایسی رپورٹنگ کرے جس سے دوسری پارٹیوں کو نقصان اور پاکستان تحریک انصاف کو فائدہ پہنچے۔ پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن نے اس پر سخت احتجاج درج کرایاتھا اور غیرملکی آبزرورنے بھی اس بات کا اشارہ کیا تھا کہ منصفانہ طور پر کام نہیں ہوا۔

بہرحال انتخابات کے نتائج بڑی حد تک فوج اور عمران خان کی مرضی کے مطابق آئےاگر چہ ایسی واضح اکثریت پاکستان تحریک انصاف حاصل نہ کرسکی جیسی پچھلی حکومت نے حاصل کی تھی۔ لیکن جمہوریت، ایمانداری اور شفافیت کے نعرے لگانے والے عمران خان کے زمانے میں میڈیا پر جس طرح کی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں اس سے نہ صرف اپوزیشن پارٹیاں نالاں ہیں بلکہ خود عمران خان کے بہت سے حامی بھی اندر ہی اندر ناراض ہیں۔ پاکستان اس وقت سخت قسم کے اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے اورعمران خان تمام کی تمام ذمہ داری صرف اپنے سے پہلے برسراقتدار آنے والی حکومتوں کے سرمنڈ رہے ہیں۔ انہوں نے قرض اور آسان قرض کے لیے مختلف ممالک کا دورہ کیا۔ عالمی مالیاتی اداروں سے کسی طرح کے قرض لینےکو وہ بہت بڑا عیب مانتے تھے اور آئی ایم ایف کے بارے میں تو یہاں تک کہا تھا کہ  میں کاسۂ گدائی لے کر جانے کے مقابلے خودکشی کرنا پسند کروں گا لیکن اس پر موصوف قائم نہ رہ سکے اور چھہ بلین ڈالر کے پیکیج کے عوض تمام شرطیں ماننے پر مجبور ہوئے۔ ان کے حالیہ دورۂ امریکہ کاخاص مقصد بھی یہی تھا کہ کسی صورت امریکہ سے فوجی امداد بحال کرائی جاسکے۔ واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کی میٹنگ میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اب بھی تیس سے چالیس ہزارمسلح دہشت گرد پاکستان میں سرگرم ہیں لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ موصوف نے یہ الزام بھی پہلے کی حکومتوں پر لگایا کہ انہوں نے ان گروپوں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ اس بات کا کریڈٹ بھی لینے کی کوشش کی کہ اب ان کی حکومت مؤثر کارروائی کرنے جارہی ہے۔ گویا اس طرح عمران خان فوج سے اپنی دوستی نبھارہے ہیں۔ جب یہی سب باتیں میڈیا میں آتی ہیں تو وہ چراغ پا ہوجاتے ہیں اور نیوز چینلوں پر پابندی عائد کی جاتی ہے کہ حکومت یا فوج کی کوئی تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت پر کسی طرح کی تنقید اگر کسی چینل پرنشر ہوتی ہے تو فورا نشریات پرپابندی لگ جاتی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے انٹرویو، ان کی پریس کانفرنس اور بیانات پورے طور پر بلیک آؤٹ کردیے جاتے ہیں۔ حالیہ دورۂ امریکہ کے درمیان جب کچھ اخباری نمائندوں نے ان سے پریس سنسرشپ پر کچھ سوال کیے تو انہوں نے اس طرح کے الزام کو خارج کرتے ہوئے اسے لطیفہ قرار دیا تھا۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ میڈیا کا حلقہ عمران حکومت سے سخت بیزار ہے اور اب تو ایسی تجویز بھی آئی ہے کہ میڈیا سے متعلق معاملات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ان سب باتوں کے خلاف اپوزیشن اور میڈیا کی طرف سے لگاتار احتجاج ہورہا ہے اور عالمی میڈیا تنظیمیں بھی آواز اٹھارہی ہیں۔