صدرجمہوریہ ہندجناب رام ناتھ کووند کا70ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر قوم کے نام پیغام

نئی دہلی،25جنوری، 2019
میرے عزیز ہم وطنو!
1۔ 70ویں یوم جمہوریہ پر آ پ سب کو میری دلی مبارک باد۔
یہ دن جمہوریت پرمبنی ہماری جمہوریہ کے اعلی آدرشوں کو یاد کرنے کا موقع ہے۔یہ دن ملک کے تمام شہریوں کے لئے آزادی، مساوات اور بھائی چارہ کے آدرشوں کے تئیں اپنے اعتقاد کا اعادہ کرنے کا موقع ہے۔ اور ان سب سے بڑھ کریہ  کہ یوم جمہوریہ ، ہم سب کے ہندوستانی ہونے کے فخر کو محسوس کرنے کا بھی موقع ہے۔

2۔ ہماری جمہوریت کے لئے یہ سال خصوصی طور پر اہم ہے ۔ اسی سال 2 اکتوبر کو، ہم بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 150 ویں سالگرہ منائیں گے۔گاندھی جی نے ، ہم سب کو ایک نئی راہ دکھائی ۔ انہوں نے ہندوستان ہی نہیں بلکہ ایشیاء، افریقہ اور دنیا کے کئی دیگرملکوں میں نوآبادیاتی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کے لئے ، لوگوں میں خود اعتمادی پیدا کی  ،حوصلہ بخشااور انہیں آزادی کی راہ دکھائی۔ باپو، آج بھی ، ہماری جمہوریت کے لئے اخلاقی قدروں کا روشن مینارہ ہیں۔آج بھی ان کی زندگی اور ان کی تعلیمات ہماری پالیسیوں اور طریقہ کار کے لئے کسوٹی ہیں۔ مہاتما گاندھی کی 150ویں سالگرہ ، صرف ہندو ستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے ، ان کے آدرشوں کو گہرائی سے سمجھنے ، اپنانے اور عملی جامہ پہنانے کا موقع ہے۔

3۔ گاندھی جینتی کے چند ہفتے بعد 26 نومبر کو، ہم اپنے یوم آئین کی70ویں سالگرہ منائیں گے۔26نومبر 1949 کے تاریخی دن ، اپنے آئین ساز کونسل کے ذریعہ ، ہم ہندوستان کے لوگوں نے، اپنے آئین کو اپنایا اور خود کو وقف کیا۔اس کے ٹھیک دو ماہ بعد 26جنوری 1950کو ہم نے اپنا آئین نافذ کیا اور ہندوستان ایک جمہوریہ کے طور پر قائم ہوا۔ ہمارا آئین ،  ہماری جمہوریہ کی بنیاد ہے۔ یہ ایک دوررس اور زندہ جاوید دستاویز ہے۔ اعلی آدرشوں اور حب الوطنی کے جذبہ سے لبریز، آئین ساز کونسل کے اعلی دماغ اراکین نے اسے تیار کیا۔آئین کی تیاری میں سب سے اہم رول ادا کرنے والے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کو ، یوم جمہوریہ کے موقع پر ، ہم خصوصی طور پر یا د کرتے ہیں۔

4۔ ہمارا ملک اس وقت اہم مقام پر ہے، ہمارے آج کے فیصلے اور عمل، اکیسویں صدی کے ہندوستان کی شکل متعین کریں گے ۔متحد ہوکر ، اپنی محنت اور کوشش کے ذریعہ ، اس صدی کو ہندوستان کی صدی بنانے کا موقع ہم سب کے سامنے ہے۔ اس کے لئے ملک کی تعمیر کے نقطہ نظر سے آج کا یہ وقت ہم سب کے لئے اتنا ہی اہم ہے جتنا ہمارے اہل وطن کے لئے آزاد ہندوستان کا ابتدائی دور تھا۔

5۔ مجاہدین آزادی کے اعلی آدرشوں پر چلتے ہوئے ہم نے آزادی حاصل کی۔ عوام کو سب سے بالاتر ماننے والی قدروں نے ہماری جمہوریت کو موجودہ شکل فراہم کی۔ جمہوریت اور آئین کے تئیں ہمارا غیر متزلزل یقین انہیں آدرشوں اور قدروں میں رچا بسا ہے۔ہم تما م ہندوستانیوں کو اس سال ایک اور اہم ذمہ داری نبھانے کا موقع ملنے جارہا ہے۔17ویں لوک سبھا کو منتخب کرنے کے لئے ہونے والے عام انتخابات میں ہم سب کو اپنے حق رائے دہی کااستعمال کرنا ہے۔ا س الیکشن کے دوران ، ہم سب اپنے حق رائے دہی کا استعمال اپنے جمہوری اصولوں اور قدروں کے تئیں پورے اعتماد و یقین کے ساتھ کریں گے۔ یہ الیکشن ان معنوں میں خصوصی ہوگا کہ اکیسویں صدی میں پیدا ہونے والے رائے دہندگان ، پہلی مرتبہ ووٹ ڈالیں گے اور نئی لوک سبھاکے قیام میں اپنا رول ادا کریں گے۔

6۔ یہ الیکشن تمام اہل وطن کے لئے جمہوریت میں اپنی سرگرم شراکت ادا کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ہم سب ، شراکت اور مساوات پرمبنی سماج کی امیدوں اور امنگوں کے لئے اپنی عہد بندی کا اعادہ کرتے ہیں۔ہماری جمہوریت کی کامیابی کےلئے ووٹ ڈالنا ایک متبرک کام بن جاتا ہے۔ میری آپ تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ اپنی اس ذمہ داری کو ضرور ادا کریں۔

7۔ ہم سب کو یہ یاد رکھنا ہے کہ یہ  وقت  اہل وطن کی امیدوں کوپورا کرنے اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے سفر میں ایک اہم پڑاو ہے۔آج ہم، اپنی مسلسل محنت سے غریبی کا خاتمہ کرنے کے فیصلہ کن مرحلے میں ہیں۔ملک گیر کوششوں کی وجہ سے ،غریب کنبوں کو مکان، پینے کا پانی، بجلی اور ٹوائلٹ کی سہولت مل رہی ہے۔ گاوں کو شہروں سے جوڑنے والی سڑکیں اور پل بن رہے ہیں۔ شہروں میں رہائش اور جدید عوامی سہولیات دستیاب ہورہی ہیں۔ہر گھر تک بجلی پہنچ رہی ہے۔ ہمارے نوجوان ہنر مند ہوکر ، روزگار کے نئے امکانات پیدا کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنی تجارت کرنا چاہتے ہیں انہیں کسی ضمانت کے بغیر قرض کی سہولت فراہم کرائی جارہی ہے۔ ہر غریب شخص تک صحت خدمات پہنچانے کا ایک وسیع پروگرام شروع کیا گیا ہے ۔ لوگوں کو جن اوشدھی کیندروں میں، سستی قیمت پر دوائیاں مل رہی ہیں۔ قلب کی بیماری کے علاج کے لئے STENT جیسی زندگی بچانے والے طبی سازوسامان اور گھٹنے کے امپلانٹ(IMPLANT) کی قیمتوں میں کافی کمی ہوگئی ہے۔ رعایتی شرحوں پر ڈائلاسس کی سہولت حاصل ہورہی ہے۔ ہمارے غریب بھائی بہنوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ایسے بہت سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

8۔ ملک کے کونے کونے میں ، موبائل فون اور انٹرنیٹ سہولت ہونے سے ڈیجیٹل کنکٹی ویٹی میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ بندرگاہوں، درون ملک آبی گذرگاہوں، بہتر ریل خدمات ، جدید میٹرو سہولیات، قومی شاہراہوں، گاوں کی سڑکوں اور ملک کے دور دراز علاقوں میں کفایتی فضائی سفر کی سہولتوں سے کنکٹی ویٹی بہتر ہورہی ہے۔

9۔ آج یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ جدید ترین ٹکنالوجی کو تیزی سے اپناتے ہوئے ہمارے کسان زیادہ بااختیار اور ہمارے جوان زیادہ طاقت ورہورہے ہیں۔ ٹکنالوجی اور نئی سوچ کی مدد سے ہمارے انٹرپرنیور(ENTREPRENEUR)  ترقی کی نئی عبارت لکھ رہے ہیں۔ آج دنیا کی نگاہیں، ہمارے نوجوان انٹرپرنیورس اور ہماری معیشت پر ٹکی ہوئی ہیں۔

عزیز ہم وطنو!
10۔ ملک کے مختلف حصوں میں اپنے سفر کے دوران ، میں سماج کے تمام طبقات کے لوگوں سے ملتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ سخت محنت اور ایمانداری سے حاصل کی گئی حصولیابیوں کا عام لو گ کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں۔یہ اعتراف ان بزرگ شہریوں کے خیالات میں اور بھی زیادہ واضح طور پر دکھائی دیتاہے جنہوں نے قلت اورپریشانیوں کا دور دیکھا ہے۔یہ کامیابی ہم سب نے سخت محنت سے حاصل کی ہے۔
11۔ ہم نے کمی کو فراوانی میں تبدیل کیا ہے۔ مثال کے طور پر آج ملک میں اناج بہت بڑی مقدار میں پیدا ہورہا ہے ۔ رسوئی گیس آسانی سے مل رہی ہے۔ فون کنکشن لینا ہو یا پاسپورٹ بنوانا ہو، بینک میں کھاتہ کھلواناہو یا دستاویزوں کی تصدیق کرانی ہو، ان تمام شعبوں میں سدھار اور تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔خواتین کو بااختیار بنانے کے شعبے میں ہونے والی سماجی تبدیلی سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہماری بیٹیاں ، تعلیم ، آرٹ، میڈیکل اور اسپورٹس جیسے شعبوں کے علاوہ ہماری تینوں افواج اور ڈیفنس سائنس جیسے شعبوں میں بھی اپنی خصوصی شناخت قائم کررہی ہیں۔ اعلی تعلیمی اداروں میں، میڈل حاصل کرنے والے طلبہ  و طالبات میں عام طورپر بیٹیوں کی تعداد بیٹوں سے زیادہ ہوتی ہے ۔ ایسی تبدیلیوں کے کثیر جہتی فائدے ہورہے ہیں۔

12۔ سب کو ساتھ لے کر چلنے کا شمولیتی جذبہ، ہندوستان کی ترقی کا بنیادی منتر ہے۔ اس ترقی کے دائرے میں ہم تمام اہل وطن شامل ہیں۔ہم اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ عوامی سہولیات ہر ایک کی دسترس میں ہوں اور ترقی کے مواقع سب کو یکساں طور پر دستیاب ہوں۔ خواہ ہم کسی بھی گروپ کے ہوں ، کسی بھی فرقہ کے ہوں،ملک کے وسائل پر ہم سب کا برابر حق ہے ۔تکثیریت ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہماری گونا گونی، جمہوریت اور ترقی پوری دنیا کے سامنے ایک مثال ہے۔ ہم ان میں سے کسی ایک کو دوسرے پر فوقیت نہیں دے سکتے ۔ ہمیں ان تینوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے اور ہم ان تینوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔

13۔ گاندھی جی نے اپنی کتاب’’میرے خوابوں کا ہندوستان‘‘ میں لکھا ہے کہ میں ایسے ہندوستان کی تعمیر کے لئے کوشش کروں گا ، جس میں غریب سے غریب افراد بھی یہ محسوس کریں گے کہ یہ ان کا ملک ہے۔ اس کی تعمیر میں ان کی آواز کو اہمیت
حاصل ہوگی، جہاں اونچ نیچ کا بھید بھاو نہیں ہوگااور عورتوں کو بھی وہی حقوق ملیں گے جو مردوں کو حاصل ہوں گے۔ اس سلسلے میں اسی ماہ آئینی ترمیم کے ذریعہ غریب خاندانوں کے باصلاحیت بچوں کو تعلیم اور روزگار کے خصوصی مواقع دستیاب کرائے گئے ہیں۔سماجی انصاف اور اقتصادی اخلاقیات کے پیمانوں پر زور دے کر، شمولیتی ترقی کے کاموں کو مزید وسیع بنیاد فراہم کی گئی ہے۔ٹکنالوجی او رنئی سوچ کی طاقت کی بنیاد پر سماج کے ہر طبقہ کے افراد ترقی کے سفر میں شامل ہورہے ہیں۔

میرے عزیز ہم وطنو!
14۔ ہمار ی عظیم جمہوریت نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ لیکن ابھی ہمیں بہت آگے جانا ہے۔ خاص کر ہمار ے جو بھائی بہن ترقی کی اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں ، ان سب کو ساتھ لے کر ،ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ اکیسویں صدی کے لئے ہمیں اپنے اہداف اور حصولیابیوں کے نئے پیمانے مقرر کرنے ہیں۔ اب ہمیں کوالٹی یعنی معیار پر اور بھی زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ تمام طبقات اور تمام فرقوں کو مناسب مقام دینے والے ملک کے طورپر آگے بڑھتے ہوئے ،ہمیں ایک ایسا سماج تعمیر کرنا ہے جس میں ہر بیٹی اوربیٹے کی خصوصت، صلاحیت اور اہلیت کی پہچان ہو اوراس کے فروغ کے لئے ہر طرح کی سہولیات اور حوصلہ افزائی دستیا ب ہو۔

15۔ باہمی تعاون اور شراکت کی بنیاد پر ہی سماج تعمیر ہوتا ہے ۔خواہ خاندان کی خوشی ہو، تجارت میں ترقی ہو، سماج اور ملک کی تعمیر ہو یا پھر ایک بہتر عالمی نظام کا قیام ہو، یہ تمام مقاصدفرد، سماج، حکومت اور ملکوں کے باہمی تعاون سے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ تعاون اور شراکت کا یہ جذبہ ہی پوری دنیا کو ایک خاندان ماننے والے ’ وسو دھیو کٹم بکم‘کے اصولوں کی بھی بنیاد ہے۔

16۔ نظریات کا تبادلہ، جامع مذاکرات اور گہری حساسیت کی اہمیت جس طرح خاندان کی سطح پر تعاون کے لئے موثر ثابت ہوتی ہے اسی طرح یہ سماج کے محروم طبقات کی شراکت کے لئے بھی بامعنی ہے۔ ہمیں ان طبقات کے مسائل کو سننے سمجھنے اور ان کا حل کرنے کی کوششوں کو مسلسل جاری رکھنا ہے۔

17۔ ہماری ثقافت، روایت اور زندگی کے آدرشوں میں  خدمت  خلق کی بہت اہمیت ہے۔ہم سب ایسے افراد اور اداروں کی انتہائی قدر و احترام کرتے ہیں جنہوں نے خود کو عوام کی خدمت اور فلا ح و بہبود کے لئے وقف کردیا ہے۔خدمت اور عوام کے تئیں وقف کردینے کے اس تصور اور انصاف کے دائرہ کو وسیع کرنے کو اس کا خاطر خواہ مقام ملنا چاہئے۔ نیک نیتی سے کی جانے والی کوششوں کو، خواہ وہ کسی فرد کی ہو، جماعت کی ہو ، اداروں کی ہو ، سرکاری ہو یا غیر سرکاری، سماج کے کسی طبقے کی طرف سے ہو یا حکومت کی طرف سے ،ان کو ہر حال  میں تسلیم کیا جانا چاہئے۔

18۔ یہ وہ رہنما اصول ہیں  جو ہمیں اپنے گھر میں بھی اور باہر بھی رہنمائی کرتے ہیں۔ معاملہ خواہ قیام امن کا ہویا ماحولیاتی تبدیلی کا ، ترقیاتی شراکت کی بات ہو یا انسانی امداد اور آفات کے وقت راحت رسانی کاکام ۔ انہیں رہنما اصولوں نے ہندوستان کے عالمی اپروچ کی صورت گری کی ہے۔ ان اقدامات کی وجہ سے ہندوستان کو بین الاقوامی نظام میں ایک نیا احترام حاصل ہورہا ہے۔

19۔ میں زور دے کر کہنا چاہوں گاکہ یہی وہ اصول ہیں جو ہماری جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ہماری جمہوریت کا نقطہ نظر ہے کہ ہم جمہوری اہداف کو جمہوری طریقوں سے حاصل کریں، تکثیری اہداف کو تکثری ذرائع سے حاصل کریں، روشن خیالی کوپر بصیرت ذرائع سے حاصل کریں، شمولیت کے اہداف کو شمولیتی ذرائع سے حاصل کریں،رحم دلی کے اہداف کو ہمدردانہ طریقے سے حاصل کریں اور آئینی اہداف کو آئینی طریقے سے حاصل کریں۔

20۔ میری دعا ہے کہ یہ اصول ہماری راہوں کو ہمیشہ منّور کرتے رہیں۔ اور آخری بات یہ  کہ   ہم ہندوستان کے عوام ….‘‘نے خود کو یہ آئین دیا ہے اور ’’ ہم ہندوستان کے عوام…‘‘ ہی اس کے نگہبان اور اس کے اصولوں کے علم بردار ہیں ۔
ان الفاظ کے ساتھ ، میں ایک بار پھر آپ سب کو یوم جمہوریہ کی مبارک باد دیتا ہوں۔
جے ہند!