صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند کا یوم آزادی کے موقع پر قوم کے نام پیغام راشٹرپتی بھون، 14 اگست 2018

میرے عزیز ہم وطنو!
1۔ کل ہماری آزادی کے اکہتر برس پورے ہور ہے ہیں۔ کل ہم اپنی آزادی کی 72ویں سالگرہ منائیں گے۔ قومی افتخار کے اس موقع پر میں آپ تمام اہل وطن کو مبارک باد دیتا ہوں۔ 15 اگست کا دن ہر ہندوستانی کے لئے متبرک ہوتا ہے، خواہ وہ ملک میں ہو یا بیرون ملک میں۔اس دن ہم سب اپنا قومی پرچم اپنے اپنے گھروں، اسکولوں، دفتروں، میونسپلٹیوں، گرام پنچایتوں ، سرکاری اور نجی عمارتوں پر پورے جوش و خروش کے ساتھ لہراتے ہیں۔ہمارا ترنگا ہماری قومی سا لمیت کی علامت ہے۔ اس دن ہم ملک کی خود مختاری کا جشن مناتے ہیں اور اپنے ان آباو اجداد کے رول کو پوری احسان مندی کے ساتھ یاد کرتے ہیں، جن کی کوششوں سے ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔یہ دن قوم کی تعمیر میں ان بقیہ کاموں کی تکمیل کے لئے عہد کرنے کا بھی دن ہے ، جنہیں ہمارے باصلاحیت نوجوان بلاشبہ مکمل کریں گے۔

2۔ سن 1947 میں 14 اور 15 اگست کی نصف شب کے وقت، ہمارا ملک آزاد ہوا تھا۔ یہ آزادی ہمارے آباو اجداد اور قابل احترام مجاہدین آزادی کی برسوں کی قربانیوں اور بہادری کا نتیجہ تھی۔جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والے تمام بہادر مرد و خواتین ، غیر معمولی طورپر شجاعت مند اور دوراندیش تھے۔اس جنگ میں ملک کے تمام علاقوں، سماج کے تمام طبقات اور فرقوں کے افراد شامل تھے۔وہ چاہتے تو آرام دہ زندگی گذار سکتے تھے ۔ لیکن ملک کے تئیں بے پناہ لگن کی وجہ سے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ ایک ایسا آزاد اور خود کفیل ہندوستان بنانا چاہتے تھے ، جہاں سماج میں مساوات اور بھائی چارا ہو۔ہم ان کے کارناموں کو ہمیشہ یاد کرتے ہیں۔ ابھی 9 اگست کو ہی ’ہندوستا ن چھوڑو تحریک‘ کی 76 ویں سالگرہ پر مجاہدین آزادی کو راشٹرپتی بھون میں اعزاز سے نوازا گیا ۔

3۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ایسے عظیم دیش بھکتوں کی وراثت ملی ہے۔ انہوں نے ہمیں ایک آزاد ہندوستان سونپا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کچھ ایسے کام بھی سونپے ہیں ، جنہیں ہم مل کر پورا کریں گے۔ملک کی ترقی کرنے اور غربت اور عدم مساوات سے آزادی حاصل کرنے کے یہ اہم کام ہم سب کو کرنے ہیں۔ ان کاموں کو پورا کرنے کی سمت میں ، ہماری قومی زندگی کی ہر کوشش، ان مجاہدین آزادی کے تئیں ہمارا خراج عقیدت ہے۔
4۔ اگر ہم آزادی کا صرف سیاسی مطلب لیتے ہیں تو محسوس ہوگا کہ 15 اگست 1947 کے دن ہمارا مقصد پورا ہوچکا تھا۔ اس دن استعماری حکومت کے خلاف جنگ میں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی اور ہم آزاد ہوگئے۔ لیکن آزادی کا ہمارا نظریہ کافی وسیع ہے۔ اس کی کوئی لگی بندھی اور محدود تعریف نہیں ہے۔ آزادی کے دائرے کو بڑھاتے رہنا، ایک جہد مسلسل ہے۔1947میں سیاسی آزادی ملنے کے ، اتنی دہائیوں بعد بھی، ہر ہندوستانی، ایک مجاہد آزادی کی طرح ہی ملک کے تئیں اپنا رول ادا کرسکتا ہے۔ ہمیں آزادی کو نئی جہتیں دینی ہیں اور ایسے اقدامات کرتے رہنا ہیں جن سے ہمارے ملک اور اہل وطن کو ترقی کے نئے نئے مواقع دستیاب ہوسکیں۔

5۔ ہمارے کسان ان کروڑوں اہل وطن کے لئے اناج پیدا کرتے ہیں، جن سے وہ کبھی آمنے سامنے ملے بھی نہیں ہوں گے۔ وہ ملک کے لئے فوڈ سیکورٹی اور غذائیت بخش اناج دستیاب کراکر ہماری آزادی کو قوت فراہم کرتے ہیں۔جب ہم ان کے کھیتوں کی پیداوار اور ان کی آمدنی میں اضافہ کے لئے جدید ٹکنالوجی اوردیگر سہولیات فراہم کراتے ہیں تب ہم اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بناتے ہیں۔

6۔ ہماری مسلح افواج سرحدوں پر، برفیلے پہاڑوں پر، چلچلاتی دھوپ میں، سمندر اور آسمان میں، پوری بہادری اور چوکسی کے ساتھ ملک کی سلامتی کے لئے ہمیشہ چاق وچوبند رہتے ہیں۔وہ بیرونی خطرات سے حفاظت کرکے ہماری آزادی کو یقینی بناتے ہیں۔ جب ہم ان کے لئے بہتر ہتھیار فراہم کراتے ہیں ، ملک میں ہی دفاعی ساز وسامان کے لئے سپلائی چین ڈیولپ کرتے ہیں اور ان مسلح افواج کی فلاح و بہبود کے لئے سہولیات فراہم کرتے ہیں تب ہم اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بناتے ہیں۔

7۔ ہماری پولیس اور نیم فوجی دستے مختلف طرح کے چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں۔ وہ دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہیں اور جرائم کی روک تھام اور قانون و انتظام کی حفاظت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ، قدرتی آفات کے وقت وہ ہم سب کو سہارا دیتے ہیں۔ جب ہم ان کے کام کاج اور ذاتی زندگی میں سدھار لاتے ہیں تب ہم اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بناتے ہیں۔

8۔ خواتین کاہمارے سماج میں ایک اہم رول ہے۔ کئی معنوں میں خواتین کی آزادی و سیع تر بنانے میں ہی ملک کی آزادی کی معنویت پنہاں ہے۔ یہ معنویت گھروں میں ماووں، بہنوں اور بیٹیوں کی شکل میں اور گھر سے باہر اپنے فیصلوں کے مطابق زندگی جینے کی ان کی آزادی میں دیکھی جاسکتی ہے۔ انہیں اپنے ڈھنگ سے جینے اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے کے لئے محفوظ ماحول اور موقع ملنا ہی چاہئے۔ وہ اپنی صلاحیت کا استعمال خواہ گھر کی ترقی کے لئے کریں یا پھر ہمارے Work Force یا اعلی تعلیمی اداروں میں اہم تعاون دے کر کریں۔ انہیں اپنے متبادل منتخب کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہئے۔ ایک قوم اور سماج کے طور پر ہمیں یہ یقینی بنانا چاہئے کہ خواتین کو ، زندگی میں آگے بڑھنے کے تمام حقوق اور مواقع دستیاب ہوں۔

9۔ جب ہم خواتین کے ذریعہ چلائے جانے والے کارخانوں یا اسٹارٹ اپ کے لئے اقتصادی وسائل دستیاب کراتے ہیں ، کروڑوں گھروں میں ایل پی جی کنکشن پہونچاتے ہیں اور اس طرح خواتین کو بااختیار بناتے ہیں تب ہم اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بناتے ہیں۔

10۔ ہمارے نوجوان ہندوستان کی امیدوں اور امنگوں کی بنیاد ہیں۔ ہماری جدوجہد آزادی میں نوجوانوں اور بزرگوں ، سبھی کی سرگرم شراکت تھی۔ لیکن اس جنگ میں جوش بھرنے کا کام خاص طورپر نوجوان طبقے نے کیا تھا۔ آزادی کی چاہت میں بھلے ہی انہوں نے الگ الگ راستوں کا انتخاب کیا ہو لیکن وہ سبھی آزاد ہندوستان ، بہتر ہندوستان اور خوشحال ہندوستان کے اپنے آدرشوں اور عزائم پر قائم رہے۔

11۔ ہم اپنے نوجوانوں کے ہنرکو فروغ دیتے ہیں۔ انہیں ٹکنالوجی، انجینئرنگ اور انٹرپرینیورشپ کیلئے اور آرٹ اور فن کے لئے راغب کرتے ہیں ۔ انہیں موسیقی تخلیق کرنے سے لے کر موبائل ایپس بنانے اور کھیلوں کے مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے حوصلہ دیتے ہیں۔ اس طرح جب ہم نوجوانوں کی بے پناہ صلاحیتوں کو ابھارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں تب ہم اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بناتے ہیں۔

12۔ میں نے قوم کی تعمیر کی کچھ مثالیں دی ہیں۔ ایسی بہت ساری مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ درحقیقت ایسا ہر ہندوستانی جو اپنا کام پوری ایمانداری اور لگن سے کرتا ہے، جو سماج کو اخلاقی تعاون دیتا ہے۔۔۔خواہ وہ ڈاکٹر ہو، نرس ہو، استاذ ہو، عوامی خدمت گار ہو ، فیکٹری ورکر ہو، تاجر ہو، بزرگ والدین کی دیکھ بھال کرنے والی اولاد ہو، یہ تمام اپنے اپنے طور سے آزادی کے آدرشوں پر عمل کرتے ہیں۔ یہ تمام شہری جو اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی کرتے ہیں اور اپنا عہد نبھاتے ہیں، وہ بھی مجاہدین آزادی کے آدرشوں پر عمل کرتے ہیں۔ میں کہنا چاہوں گا کہ ہمارے جو اہل وطن قطار میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں اور اپنے سے آگے کھڑے لوگوں کے حقوق کا احترام کرتے ہیں وہ بھی ہمارے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بناتے ہیں۔ یہ ایک بہت چھوٹی سے کوشش ہے۔ آئیے ، کوشش کریں ، ہم سب اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

 


عزیز ہم وطنو!

13۔ میں نے جو کچھ کہا ہے ، کیا وہ اب سے دس بیس سال پہلے، بامعنی نہیں رہا ہوگا؟ کچھ حد تک، یقینی طور پر یہ سب بامعنی رہے ہوں گے۔ پھر بھی آج ہم اپنی تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جواپنے آپ میں بہت مختلف ہے۔آج ہم ایسے اہداف کے کافی قریب ہیں جن کے لئے ہم برسوں سے کوشش کرتے رہے ہیں۔ سب کے لئے بجلی، کھلے میں رفع حاجت سے آزادی، تمام بے گھروں کو گھر اور انتہائی غربت کو دور کرنے کے اہداف اب ہماری دستر س میں ہیں۔ آج ہم ایک فیصلہ کن دور سے گذر رہے ہیں ۔ ایسے میں ہمیں اس بات پر زور دینا ہے کہ ہم توجہ بھٹکانے والے معاملات میں نہ الجھیں اور نہ ہی غیر ضروری تنازعات میں پڑ کر اپنے اہداف سے ہٹیں۔
14۔ تقریباً تین دہائی بعد، ہم سب آزادی کی ایک سوویں سالگرہ منائیں گے۔ پوری دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہمیں دنیا کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار سے، تبدیلی اور ترقی کرنی ہوگی۔ آج جو فیصلے ہم کررہے ہیں ، جو بنیاد ہم رکھ رہے ہیں ، جو منصوبے ہم شروع کررہے ہیں ، جو سماجی اور اقتصادی پہل ہم کررہے ہیں، انہیں سے یہ طے ہوگا کہ ہماراملک کہاں تک پہونچا ہے۔ ہمارے ملک میں تبدیلی اورترقی تیزی سے ہورہی ہے۔ اور اس کی تعریف بھی ہورہی ہے۔ہمارے ملک میں اس طرح کی تبدیلی ہمارے عوام، ہمارے سمجھدار شہریوں اور سماج اور حکومت کی شراکت سے ہورہی ہے۔ہمیشہ سے ہماری سوچ یہ رہی ہے کہ ایسی تبدیلیوں سے سماج کے محروم طبقات اور غریبوں کی زندگی بہتر بن سکے۔

15۔ میں آپ کو صرف ایک مثال دیتا ہوں۔ اس وقت گرام سوراجیہ ابھیان کے تحت سات اہم پروگراموں کا فائدہ ہمارے سب سے غریب اور محروم شہریوں تک پہونچایا جارہا ہے۔ ان خدمات میں بجلی، بینکنگ، فلاحی پروگرام اور انشورنس پروگرام کے ساتھ ساتھ دور افتادہ علاقوں میں ٹیکہ کاری کی سہولیات پہونچانا شامل ہے۔ گرام سوراج ابھیان کے دائرے میں ان 117 اضلاع کو بھی شامل کرلیا گیا ہے جو آزادی کے سات دہائیوں بعد بھی ہماری ترقی کے سفر میں پیچھے رہ گئے ہیں۔

16۔ ان اضلاع کی آبادی میں شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب کے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ہمارے سامنے سماجی اور اقتصادی پیرامڈ میں سب سے نیچے رہ جانے والے اہل وطن کے معیار زندگی کوتیزی سے سدھارنے کا اچھا موقع ہے۔ گرام سوراج ابھیان کا کام صرف حکومت کے ذریعہ نہیں کیا جارہا ہے۔ یہ مہم حکومت او رسماج کی مشترکہ کوششوں سے جاری ہے۔ ان کوششوں میں ایسے شہری سرگرم ہیں ، جو کمزور طبقات کی مشکلات کو کم کرنے ، ان کی تکلیف بانٹنے اور سماج کو کچھ دینے کیلئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔

17۔ ہندوستانی روایت میں دریدر نارائن یعنی غریب کی خدمت کو سب سے اچھا کام کہا گیا ہے۔ بھگوان بدھ نے بھی کہا تھا کہ
ابھی تورتے کلیانے یعنی فلاح و بہبود کے کام ہمیشہ تیزی سے کرنے چاہئیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم تمام اہل ہند سماج اور ملک کی فلاح و بہبود کے لئے تیزی سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔

 

پیارے ہم وطنو!
18۔ یوم آزادی ہمیشہ ہی ایک خصوصی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔لیکن اس مرتبہ اس دن کے ساتھ ایک خاص بات وابستہ ہے ۔ کچھ ہی ہفتہ بعد 2 اکتوبر سے مہاتماگاندھی کی 150ویں سالگرہ تقریبات شروع ہوجائیں گی۔ گاندھی جی نے صرف ہماری جدوجہد آزادی کی ہی قیادت نہیں کی بلکہ وہ ہمارے اخلاقی رہنما بھی تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔ ہندوستان کے صدر کی حیثیت سے مجھے افریقہ کے ملکوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا ہے ۔ دنیامیں ہر جگہ جہاں جہاں بھی میں گیا ، پوری انسانیت کے آدرش کے طورپر گاندھی جی کو احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔انہیں ہندوستان کے امتیازی نشان کی شکل میں دیکھا جاتا ہے۔

19۔ ہمیں گاندھی جی کے نظریات کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ انہیں سیاست اور آزادی کی محدود تعریف منظور نہیں تھی۔ جب گاندھی جی اور ان کی اہلیہ کستوربا ، چمپارن میں نیل کی کھیتی کرنے والے کسانوں کی تحریک کے سلسلے میں بہار گئے تو وہاں انہوں نے کافی وقت، وہاں کے لوگوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کو، صفائی ستھرائی اور صحت کی تعلیم دینے میں صرف کیا ۔ چمپارن میں اور دیگر بہت سے مقامات پر ، گاندھی جی نے خودصفائی ستھرائی مہم کی قیادت کی۔ انہوں نے صفائی ستھرائی کو ذاتی ڈسپلن اور جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے ضروری قرار دیا۔

20۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے یہ سوال کیاتھا کہ ان سب باتوں کا بھلا جدوجہد آزادی سے کیا لینا دینا ؟ مہاتما گاندھی کے لئے آزادی کی لڑائی میں ان باتوں کی بہت اہمیت تھی۔ ان کے لئے یہ صرف سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی لڑائی نہیں تھی بلکہ غریب سے غریب افراد کو بااختیار بنانے، ان پڑھ لوگوں کو خواندہ بنانے اور ہر شخص ، خاندان، گروپ اور گاوں کے لئے عزت کے ساتھ جینے کا حق دینے کی لڑائی تھی۔

21۔ گاندھی جی سودیشی پر بہت زور دیا کرتے تھے۔ ان کے لئے یہ ہندوستانی صلاحیتوں اور حساسیت کو فروغ دینے کا موثر ذریعہ تھا۔ وہ دنیا کے دیگر حصوں میں پائے جانے والے نظریات سے بھی آگاہ تھے۔ وہ مانتے تھے کہ ہندوستانی تہذیب کے مطابق ہمیں تنگ نظری سے آزاد ہوکر، نئے نئے خیالات کے لئے ، اپنے ذہن کی کھڑکیوں کو کھلا رکھنا چاہئے۔یہ سودیشی کی ان کی اپنی سوچ تھی۔ دنیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کو فروغ دینے میں ہماری معیشت، صحت، تعلیم، سماجی امنگوں اور فیصلہ ساز متبادل کے انتخاب میں ، سودیشی کی یہ سوچ آج بھی بامعنی ہے۔

22۔ گاندھی جی کاسب سے عظیم پیغام یہی تھا کہ تشدد کے مقابلے میں عدم تشدد کی طاقت کہیں زیادہ ہے۔ حملہ کرنے کے مقابلے میں تحمل سے کام لینا کہیں زیادہ قابل تعریف عمل ہے اور ہمارے سماج میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔گاندھی جی نے عدم تشدد کا یہ ناقابل تسخیر ہتھیار ہمیں دیا ہے۔ انکی دیگر تعلیمات کی طرح عدم تشدد کا یہ منتر بھی ، ہندوستان کی قدیم روایات میں موجود تھا اور آج اکیسویں صدی میں بھی ہماری زندگی میں یہ اتنا ہی اہم اور بامعنی ہے۔

23۔ اس یوم آزادی کے موقع پر ، جو گاندھی جی کی 150ویں سالگرہ تقریبات کے اتنا قریب ہے ، ہم سب اہل ہند اپنی روز مرہ کے رویے میں ، ان کے ذریعہ بتائے گئے راستوں پر چلنے کا عہد کریں۔ ہماری آزادی کا جشن منانے اور ہندوستانیت کے فخرکو محسوس کرنے کا، اس سے بہتر کوئی او رطریقہ نہیں ہوسکتا۔

24۔ یہ ہندوستانیت صرف ہمارے لئے نہیں ہے۔ یہ پوری دنیا کو ہندوستانی تہذیب کی دین ہے۔ گاندھی جی اور ہندوستان کی سوچ وسو دھیو کٹم بکم کی رہی ہے۔ہم پوری دنیا کو ایک خاندان مانتے ہیں۔ اس لئے ہماری توجہ ہمیشہ دنیا کی فلا ح و بہبود پر رہی ہے۔ خواہ وہ افریقی ملکوں کی مدد کرنا ہو، ماحولیاتی تبدیلی کے معاملے پر پہل کرنی ہو، اقوام متحدہ کے قیام امن مہمات کے لئے دنیا کے مختلف حصوں میں فوج بھیجنی ہو، پڑوسی ملکوں میں قدرتی آفات کے وقت مدد پہونچانی ہو یا پھر دنیا میں کہیں بھی، مشکل حالات میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کو وہاں سے محفوظ نکالنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ملکوں کے شہریوں کو بھی وہاں سے باہر نکالنا ہو۔ گاندھی جی اور ہندوستان کی اسی سوچ کے مطابق ہم صحت اور انسانی بہبود کے لئے یوگا کی مشق کو، اور ترقی کے لئے جدیدترین ٹکنالوجی کوپوری دنیا کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔ ہم سب گاندھی جی کی اولاد ہیں۔ جب ہم راستے پر اکیلے چل رہے ہوتے  ہیں تب بھی ہماری آنکھوں میں پوری انسانیت کی بہبود کے خواب ہوتے ہیں۔

 

عزیز ہم وطنو!
25۔ کئی یونیورسٹیوں میں اپنے خطاب کے دوران ، میں نے طلبہ سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ سال میں چار یا پانچ دن کسی گاوں میں گذاریں۔ USR یعنی یونیورسٹیز سوشل ریسپانسبلیٹی کی شکل میں کی جانے والی اس کوشش سے طلبہ میں اپنے ملک کے حقائق کے سلسلے میں معلومات میں اضافہ ہوگا۔انہیں سماجی بہبود کے پروگراموں سے وابستہ ہونے اور ان میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ اور وہ ایسے پروگراموں کے اثرات کو بہتر ڈھنگ سے سمجھ سکیں گے۔ اس پہل سے طلبہ کو بھی فائدہ ہوگا اور ساتھ ہی دیہی علاقوں کو بھی مدد ملے گی۔ اس سے ہماری آزادی کی جدوجہد کے دنوں جیسا جوش پھر سے پیدا ہوگا اور ہر شہری میں قوم کی تعمیر سے وابستہ ہونے کا جذبہ پیدا ہوگا۔
26۔ اپنے ملک کے نوجوانوں میں مثالیت پسندی اور جوش کو دیکھ کر مجھے نہایت اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔ ان میں اپنے لئے، اپنے خاندان کے لئے ، سماج کے لئے اور اپنے ملک کے لئے کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کا جذبہ دکھائی دیتا ہے۔ اخلاقی تعلیم کی اس سے بہتر مثال نہیں ہوسکتی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری یا ڈڈپلومہ حاصل کرلینا نہیں ہے بلکہ ہرایک کی زندگی کو بہتر بنانے کے جذبے کو بیدار کرنا بھی ہے ۔ایسے جذبہ سے ہی قربت اور بھائی چارہ کو فروغ ملتا ہے۔یہی ہندوستانیت ہے۔ یہی ہندوستان ہے۔ یہ ہندوستا ن ہم سب ہندوستان کے لوگوں کا ہے، صرف حکومت کا نہیں۔
27۔ متحد ہوکر ہم ’ہندوستان کے عوام ‘اپنے ملک کے ہر شہری کی مدد کرسکتے ہیں۔ متحد ہوکر ہم اپنے جنگلوں اور قدرتی وسائل کا تحفظ کرسکتے ہیں۔ ہم اپنے دیہی اور شہری مساکن کو نئی زندگی دے سکتے ہیں۔۔ ہم سب غربت، ناخواندگی اور عدم مساوات کو دور کرسکتے ہیں۔ ہم سب مل کر یہ سب کام کرسکتے ہیں اور ہمیں یہ کرنا ہی ہے۔ اگر چہ اس میں حکومت کا اہم رول ہوتا ہے لیکن صرف اسی کا رول نہیں ہوتا۔ آئیے ہم اپنی کوششوں کوآگے بڑھانے کے لئے حکومت کے پروگراموں اور منصوبوں کا پورا پورا استعمال کریں۔ آئیے ملک کے کام کو اپنا کام سمجھیں۔ یہی سوچ ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دے گی۔

28۔ ان الفاظ کے ساتھ میں ایک بار پھر آپ کو، آپ کے خاندان کے افراد کو، یوم آزادی کی مبارک باددیتا ہوں اور آپ سب کے سنہرے مستقبل کیلئے ڈھیر ساری نیک تمنائیں پیش کرتاہوں۔

شکریہ

جے ہند۔
***