بیرونی نشریاتی خدمات، آل انڈیا ریڈیو

مختصر تعارف

خارجہ پالیسی اور عوامی سفارتکاری کے تحت بیرون ملک نشریات کے ذریعے ادا کیے  جانے والا اہم رول  محتاج وضاحت  نہیں ہے۔ اپنی شبیہ اور نقطہ نظر کو واضح کرنے کیلئے اقوام عالم بین الاقوامی نشریات کو بیحد اہمیت دیتی ہیں۔

انگلینڈ کے ساتھ نوآبادیاتی رابطے کی وجہ سے انگلینڈ اور ہندوستان میں تقریباً ایک ساتھ نشریاتی خدمات کا آغاز ہوا۔ بی بی سی کے ذریعے 1938 میں عربی میں پہلی غیرملکی زبان کی نشریات شروع کی گئیں ، اسی کے ساتھ یکم اکتوبر 1939 میں آل انڈیا ریڈیو نے بھی پشتو زبان میں بیرون ملک نشریات کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد جنگ عظیم دوئم کے دوران خطے میں جرمن ریڈیو بلٹز کریگ  کے پروپیگنڈے کا توڑ  کرنے کیلئے اتحادیوں کا پروپیگنڈہ کرنا اور دنیا کے اس حصے میں بی بی سی کی کوششوں کو تقویت پہنچانا تھا۔ آزادی کے حصول کے بعد ای ایس ڈی کو اُبھرتی ہوئی قوم اور ایک قدیم تہذیب کی آواز کے ایک نئے اوتار کے طور پر تشکیل دیا جانا تھا۔ اس کا مقصد مختلف  مشکل ادوار کے دوران سفارتکاری کا فروغ اور ایک مؤثر پروپیگنڈہ مشینری کی تشکیل تھا۔

اس کے بعد سے اب تک آل انڈیا ریڈیو کی بیرونی نشریاتی خدمات  ہندوستان اور بقیہ دنیا کے درمیان ایک اہم رابطہ بن گئیں خصوصاً ان ممالک کے ساتھ جہاں بھارتی شہری مقیم تھےاور جن سے بھارت کے مفادات وابستہ تھے۔ بہتر معیار زندگی کی تلاش میں بھارتی شہری کئی دہائیوں قبل اپنا گھر بار چھوڑ کر آج دنیا کے ہر حصے میں مقیم ہیں اور وہ بھی یہ جاننے کے خواہشمند ہیں کہ ان کا وطن ان کے لئے کیا کررہا ہے۔ لہٰذا قدرتی طور پر بیرونی نشریاتی خدمات اپنے مختلف پروگراموں کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے اُمور پر ہندوستانی نقطہ نظر  پیش کرتا رہا ہے۔

آج آل انڈیا ریڈیو کی بیرونی نشریاتی خدمات 27زبانوں میں تقریباً 100 ممالک کا احاطہ کررہی ہیں جس کی وجہ سے اس کو دنیا کے بیرونی ریڈیو نیٹ ورک میں اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ اپنی بیرونی نشریات کے ذریعے آل انڈیا ریڈیو اپنے بیرون ملک سامعین کو ہندوستانی طرز عمل سے واقف کرانےکیلئے نشریاتی خدمات انجام دے رہا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو اپنے بیرون ملک سامعین سے جن زبانوں میں رابطہ قائم کئے ہوئے ہے ان میں انگریزی ، فرانسیسی ، روسی ، سواحلی ، عربی، فارسی، تبتی، چینی، تھائی، برمی اور بھاشا انڈونیشیا شامل ہیں۔ ہندی ، بنگلہ، تمل، تیلگو، ملیالم، کنّڑ اور گجراتی  زبانوں کی نشریات بیرون ملک بھارتی شہریوں کے لئے ہیں جبکہ اردو ، پنجابی، سندھی ، سرائیکی ، سنہالا اور نیپالی نشریات برصغیر ہند  اور قریبی پڑوسی ممالک میں سامعین کیلئے ہیں۔ بیرونی نشریاتی خدمات میں عام طور پر خبروں کے بلیٹن ، تبصرے ، حالات حاضرہ اور ہندوستانی اخبارات کے جائزے  پر مشتمل مربوط پروگرام پیش کیے جاتے ہیں ۔نیوز ریل کے علاوہ کھیلوں اور ادب  پر میگزین پروگرام، سماجی ، معاشی ، سیاسی، تاریخی، سائنسی اور ثقافتی موضوعات پر تقاریر ، ترقیاتی سرگرمیوں ، اہم تقریبات اور اداروں ، نیز ہندوستان کے متنوع علاقوں کے کلاسیکی لوک اور جدید موسیقی  کے پروگرام بھی ان نشریات کا ایک اہم حصہ ہیں۔

بیرونی نشریاتی خدمات کے تمام پروگراموں میں ایک مستحکم سیکولر اور جمہوری ملک کے بطور ایک مضبوط ہندوستان کی سچی تصویر پیش کی جاتی ہے جو ایک فعال اور ترقی پسند ملک ہے اور تیز رفتار معاشی، صنعتی اور تکنیکی ترقی کے لئے سر گرم ہے۔ ہندوستان کی وسیع افرادی قوت نیز اس کی حصولیابیوں اور ماحولیاتی توازن کی حقیقت کو آسان اور عام فہم زبان میں بیان کیا جاتا ہے۔

اسی طرح عدم تشدد میں ہندوستان ایقان ، آفاقی حقوق انسانی اور بین الاقوامی امن کے تئیں اس کی عہد بستگی اور ایک نئے عالمی معاشی نظام  کی تشکیل کے لئے اس کا تعاون اکثر و بیشتر زیر بحث آتا رہتا ہے۔ بیرونی نشریاتی ڈویژن موجودہ  ثقافتی تبادلے کے پروگراموں کے تحت موسیقی ، تقاریر اور مربوط پروگراموں کی ریکارڈنگ تقریباً 25 غیر ملکی نشریاتی اداروں کو فراہم کرتا رہتا ہے۔

سارک مغربی ایشیائی،خلیجی اور جنوب ایشیائی ممالک کے لئے مخصوص ، بیرونی نشریاتی ڈویژن کے ٹرانسمیشن میں 9 بجے رات کے قومی خبروں کا بلیٹن بھی شامل کیا جا تارہا ہے جبکہ یہ بلیٹن اندرون ملک خدمات کے لئے مخصوص ہے۔ اس کے علاوہ یہ ڈویژن اپنی تمام  نشریات میں پوری دنیا میں سامعین کے لئے عصری اور حالات حاضرہ کے موضوعات پر تبصرے اور اخباری جائزے پیش کر رہا ہے۔