ریڈیو فیچر:’’آغا حشر کاشمیری اور ان کا فن‘‘

aghahashar-kashmiri

 

اردو ڈرامے کے ولیم شیکسپئر’ آغا محمد شاہ حشر یعنی آغا حشر کاشمیری کی پیدائش بنارس کے ناریل بازار سے متصل محلہ گوبند کلاں میں ہوئی تھی۔ بنارس کے ایک مشن اسکول جانے والے آغا حشر کو مطالعہ کا اتنا شوق تھا کہ گھر میں سودا سلف جن پڑیوں میں آتا تھا ان کے کاغذ بھی وہ دھیان سے پڑھتے اور یادداشت و جستجو کا یہ عالم تھا کہ پڑیا کے کاغذ سے اصل کتاب کا باآسانی پتہ لگالیتے۔آغا حشر کاشمیری نہایت بذلہ سنج اور حاضر جواب انسان تھے۔ لطیفے اورچٹکلوں کا ایک دریا تھا جو اکثر ان کی باتوں میں بہتا رہتا تھا۔یہ آغا حشر کا ڈراموں کے لیے جنون ہی تھا کہ لوگ جوق در جوق صرف ان کے نام کی وجہ سے ڈرامے دیکھنے آتے جبکہ اس سستے کے زمانے میں آغا حشر کئی کئی ہزار روپے لیا کرتے تھے۔اس دور کے اہم ترین ڈرامے تھے، خوابِ ہستی، خوبصورت بلا، سلور کنگ، ترکی حور، یہودی کی لڑکی، بلوا منگل اور آنکھ کا نشہ وغیرہ۔آغا حشر کاشمیری اپنے آخری ایام میں اپنی بیماریوں کے باوجود وہ اپنے ڈرامے بھیشم پرتگیا پر فلم بنانے کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ اچانک دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔

اردو سروس کا یہ فیچر آغا حشر کاشمیری کی شخصیت’ ان کے ڈرامے اور ان کے فن کو آپ تک پہنچانے کی کاوش کا ایک حصہ ہے۔