ریڈیو فیچر :طنز آور، تبسّم آور، دلاور فگار

hqdefault

دلاور فگار

شہنشاہ ظرافت، دلاور فگار  کی پیدائش بدایوں میں ہوئی۔ اردو میں ایم اے کرنے کے بعد دلاور فگار درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے اور تقسیم ہند کے بعد کراچی میں بس گئے ۔ انہوں نے  14 برس کی عمر میں لکھنا شروع کیا۔ آپ کی بہت سی تخلیقات منظر عام پر آئیں۔ غزلوں کامجموعہ، حادثے، طنزومزاح میں ستم  ظریفیاں۔ شامت اعمال، آداب عرض، آثار نو  اور چراغ خاندان وغیرہ ۔ لیکن  سب سےزیادہ تصانیف جو مقبول ہوئیں وہ ہیں ، مطلع عرض ہے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے،  آداب عرض ہےاور کہا سنا معاف کرنا۔

دلاور فگار کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ نظمیں اور قطعات قارئین کو زبانی یاد ہوجایا کرتےتھے۔

طنزومزاح میں آج بھی دلاور فگار جیسا کوئی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اکبر ثانی بھی کہا جاتا ہے ۔ اکبر ثانی کی پیش گوئی شکیل بدایونی نے کی تھی۔

آل انڈیا ریڈیو کے اس خصوصی فیچر میں  ہم نے انکی مشہور ترین نظموں کو شامل کرنے کی سعی کی ہے۔