ریڈیو فیچر: ’’طرزِ نو کا نغمہ نگار ۔حسرتؔ‘‘

hasrat

حسرتؔ جے پوری

حسرتؔ جے پوری کا پہلا نغمہ جو ریکارڈ ہوا وہ تھا جیا بیقرار ہے۔ فلم ‘‘برسات’’ کا دوسرا نغمہ بھی اسی فلم کا تھا ‘‘چھوڑ گئے بالم مجھے ہائے اکیلا چھوڑ گئے’’۔ یہیں سے ان کی پہچان بن گئی اور رفتہ رفتہ دھن پر کہانی کی ضرورت کے مطابق اور سچویشن میں ڈھلا نغمہ لکھنے میں حسرتؔ کو مہارت حاصل ہوگئی۔راج کپور کے ساتھ حسرتؔ کی وابستگی ان کے آخری وقت تک قائم رہی اور انہوں نے شری 420، آوارہ، سنگم، بوٹ پالش، جس دیش میں گنگا بہتی  ہے، میرا نام جوکر اور رام تیری گنگا میلی جیسی کامیاب فلموں کے مقبول ترین گیت لکھے۔حسرتؔ جے پوری نے اپنے نغموں میں پہلیوں اور غیر مانوس الفاظ کا استعمال بھی بڑی خوبی سے کیا جیسے ایچک دانہ ایچک دانہ، تیتر کے دو آگے تیتر، اُف یوما، چشمِ  بددور یا پھر سایونارا وغیرہ۔حسرت جے پوری کی زندگی اور فن کے مختلف اور اہم گوشوں کو اجاگر کرتا ہے آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس کا یہ فیچر ’’طرزِ نو کا نغمہ نگار ۔حسرتؔ‘‘۔