ریڈیو فیچر:’’راہِ طلب میں اپنے بیگانے‘‘

ابنِ صفی

ibn1-650x516

’’ابن ِ صفی جاسوسی ادب کے واحد خالق ہیں۔ کسی نے بھی ان سے ہٹ کے کوئی راہ نہیں نکالی‘‘۔یہ کہنا ہے کہ انگریزی کی شہرت یافتہ جاسوسی ناول نگار اگاتھا کرسٹی کا جاسوسی دنیا کے حالق ابنَ صفی کے بارے میں۔

’’سہمی ہوئی لڑکی‘‘،’’مورثی ہوس‘‘،’’قاتل سنگریزے‘‘،’’ٹھنڈا جہنم‘‘،’’انوکھے رقاص‘‘،’’علامہ دہشتناک‘‘،’’شکاری پرچھائیاں‘‘،’’بزدل سورما‘‘،’’بحری یتیم خانہ‘‘،’’دیڑھ متوالے‘‘،’’شفق کے پجاری‘‘اور ’’پرنس وحشی‘‘۔

ان ناموں سے واضح ہے کہ ابنِ صفی ایک ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعرانہ مزاج بھی رکھتے تھے۔ یہی نہیں ابنِ صفی نے ایک فلم بھی کی۔ ان کی تحقیقات اور اس کی گہرائی کو ایک دستاویزی صورت میں پیش کرتا ہے , اردو سروس کا یہ فیچر ’’راہِ طلب میں اپنے بیگانے… ‘‘ ابنِ صفی کے ناول ہر بار ایک نیا لطف دیتے ہیں اور ان کی مقبولیت کا ایک زمانے میں یہ عالم تھا کہ ان کی تحریروں نے قاری کو ان کا دیوانہ بنادیا اور ان کے سبھی پڑھنے والے بڑی بے چینی سے ان کے ناول کا انتظار کرتے تھے۔

سماعت فرمایئے ۔