ریڈیو فیچر: ’’وہ جان گل تھا کبھی رنگت کبھی خوشبو‘‘

رئیس امر و ہوی

جہاں معبواد ٹھہرایا گیا ہوںوہیں سولی پے لٹکایا گیا ہوں

رئیس امروہوی کا ابتدائی زمانہ انگریزی حکومت کے خلاف جدوجہد کا دور تھا اور ہردن ایک نئے ہنگامہ سے عبارت تھا۔ 16 برس کی عمر میں رئیس امرہوی نے جو قلم اٹھایا تو مضامین اور کالمس کے انبار لگادیئے۔ شروعات امرو ہے کے اخبارات قرطاس اور فخر عالم کی ادارت سے کی اور 30 کی دہائی تک رئیس امر و ہوی کا شمار ملک کے اہم لکھنے والوں میں ہونے لگا۔ 1936 میں رئیس امر و ہوی بیک وقت چار چار اخباروں کے مدیر رہے۔ ادب ، فلسفہ، رندی ومستی ، تصوف ہو یا پھر دقیق اور سنجیدہ مضامین اور نفسیات کی باریک  گتھیاں غرضیکہ رئیس امرہوی ہر موضوع پر حرف آخر کے حق دار بنے۔ فصاحت زبان، سلاست بیان اور وسعت نظر  جیسی خصوصیات  کے باعث رئیس امروہوی کی تحریریں ، قارئین کے دلوں میں اترجاتی تھیں۔

خاموش زندگی جو بسر کررہے ہیں ہم                                                 گہرے سمندروں میں سفر کررہے ہیں ہم

رئیس امرہووی کی غزل میں قدیم غزل کی رو ح اور نئے انداز بیان کا بہترین امتزاج ملتا ہے۔

عالم شوق میں رئیس کس کی مجھے تلاش ہے خطبہ بہ خطبہ راہ بہ راہ ، جادہ   بہ جادہ سوبہ سو

ایک منفرد شاعر اور پرکشش آواز کے مالک رئیس امرہوی کی زندگی اور کام پر مبنی اردو سروس کا یہ خصوصی فیچر’’ وہ جان گل تھا کبھی رنگت کبھی خوشبو‘‘آپ کی خدمت میں پیش ہے۔