20-03-2017

گزشتہ مہینہ ہندوستان نے  خلائی سائنس کے شعبہ میں ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزئشن ( اسرو) نے ایک ساتھ 104 سیٹیلائٹ مدار میں چھوڑنے کا کام کیا اور اپنے پچھلے ریکارڈ کو توڑا جب 2014 میں ایک روسی راکٹ کی مدد سے ایک ساتھ 37 سیٹیلائٹ خلا میں بھیجا گیا تھا۔ یہ ہندوستان کی اسپیس کمیونیٹی اور پورے ملک کے لیے ایک بے حد ہی نمایاں کارکردگی تھی جس پر فخر کیا جانا ایک فطری بات تھی۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ان سائنس دانوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا تھا ، ” ہندوستان اپنے سائنس دانوں کو سلام کرتا ہے۔” ایسا کرنا اس لیے ممکن ہو پایا کیوں کہ ایک سیٹیلائٹ کو چھوڑ کر باقی سارے سیٹیلائٹ نینو سیٹیلائٹ  تکنیک سے لیس تھے جس کا وزن د س کیلو یعنی 20 پاونڈ سے زیادہ نہیں تھا۔ یہ سارے سیٹیلائٹ امریکہ کے تھے ،ان میں صرف دو ہندوستان کا، باقی ایک ایک قزاقستان ، اسرائیل ، نیدر لینڈ، سوئٹزر لینڈ، اور متحدہ عرب امارات کے تھے۔ صرف ایک سیٹلائٹ جو نینو اسٹیٹ نہیں تھا، وہ اسرو کا تھا جسے امیجننگ و میپنگ ( ) ایپلیکیشن کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔  اس کا وزن 1500 پاونڈ سے زیادہ ہے۔یہ واقعی ایک بے حد اہم کارنامہ تھا۔ انجینروں کو بڑی چابکدستی سے سارے کام انجام دینے تھے تاکہ یہ سارے سیٹلائٹ اپنے حدف کو حاصل کر سکیں۔ کوئ ان میں تباہ نہ ہو۔ خوش قسمتی سے بڑی کامیابی سے سبھی کو مدار میں بھیج دیا گیا۔ لیکن یہ کوئ پہلا موقع نہیں تھا کہ اسرو کو عالمی سطح پر ایسی بڑی پزیرائ حاصل ہوئ تھی، 2014 میں بھی مارس مشن کے تحت ایک سیٹلائٹ بھینجے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ ہدوستان امریکہ، روس، اور یورپین اسپیس ایجنسی کے بعد یہ چوتھا ملک تھا جس نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ اور وہ بھی پہلی کوشش میں ۔ ناسا نے 2013 میں اسپیس مشن کے تحت جو سیٹلائٹ بھیجا تھا ، اس کی مجموعی لاگت 671 ملین امریکی ڈالر تھی، جب کہ ہندوستان نے اسی کام کو بہت کم سرمایہ خرچ کر کے پورا کر دکھایا۔ یعنی صر ف 73 ملین امریکی ڈالر۔ان دنوں اسرو خبروں میں چھایا ہوا ہے۔ ہندوستانی حکومت بھی ہر سال اس کے بجٹ میں خاطرخواہ طور پر اضافہ کرتی رہی ہے۔ یہ تنظیم اب چاند پر آربیٹر لینڈر روور مشن(Orbiter Lander Rover Mission) کے تحت ایک سیٹلائٹ بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ 2008 میں اسی طرح کی ایک کوشش کی گئ تھی اور ایک دوسرا سیٹلائٹ بھی مارس پر بھیجا گیا تھا۔ اب کوشش ہورہی ہے کہ ایک سیٹلائٹ وینس پر بھی بھیجا جائے تاکہ اس سرخ و بے حد گرم سیارے کی فضا کی تحقیق کی جا سکے۔ اسرو مستقبل میں بھی پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل ( پی ایس ایل وی) کی مدد سے اور بھی سیٹلائٹ بھیجے کی پلاننگ کر رہا ہے۔ اس کی مدد سے 104 سیٹلائٹ ابھی حال میں خلا میں بھیجنے میں کامیابی حاصل ہوئ تھی۔ اس تنظیم کا نشانہ 2020 تک 18 سے 20 سیٹلائٹ ہر سال بھیجنے کا اردہ ہے تاکہ زمین کے گرد گھوم کر نہ صرف اس کی تصویریں اتارے بلکہ ساتھ ہی اطلاعاتی مقاصد کے حصول میں بھی بھرپور مدد کرے۔آغاز کے دنوں میں اسرو کے مقاصد امریکہ و روس کے مقابلے کافی مختلف تھے۔ ان کا نشانہ انسانی ایسپیس ایکسپلوریشن پر تھا۔ ہندوستان جب کہ یہ چاہتا تھا کہ یہ سیٹلائٹ فصلوں کو ہونے والے نقصانات و قدرتی آفات کے خطروں سے آگاہ کرنے کے کام آ سکے۔ ساتھ ہی ٹیلی میڈیسین اور ٹیلی کمیونیکیشن میں بھی مدد ملے، خاص کر دور دراز دیہی علاقوں میں۔

اسرو کے بانی وکرم سارا بھائ نے اس تنظیم کی غرض و غایت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا، ” ہم اس خوش فہمی میں نہیں پڑنا چاہتے کہ ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرح چاند و دیگر سیاروں پر اپنے ہیومن سیٹلائٹ بھیجیں گے۔ بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں  کہ ہم قومی سطح پر اپنے ملک کے لیے کچھ نمایاں کام کریں۔ ہم اپنی تکینک کے ذریعہ سے اپنے عوام و سماج کے مسائل کو دور کرنا چاہتے ہیں۔”

اسرو اپنے راکٹ کو مزید دھاردار بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایم او ایم حاصل کرنے کے لیے، جسے پی ایس ایل وی پر لانچ کیا گیا تھا مریخ پر بھیجنے کے لیے، آربیٹر کو زمین کے گرد کچھ زیادہ حرکت کے ساتھ چکر لگانا تھا تاکہ یہ اور بھی زیادہ اونچائی تک جا سکے اور زمین کی قوت کشش سے محفوظ رہ سکے۔ کرائیوجینک(Cryogenic ) انجن کی مدد سے توانائ کے مسئلے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ 104 سیٹلائٹ چھوڑنے کے بعد ہی اسرو نے اپنے آخری گراونڈ ٹیسٹ کا کام پورا کر لیا تھا، جس کی مدد سے ایندھن کی حدت کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے راکٹ کو کافی قوت حاصل ہو جاتی ہے۔کرائیو جینک (Cryogenic )   انجن کی مدد سے بلاشبہ سولر سسٹم کو مزید سمجھنے میں مدد ملے گی اور ساتھ ہی سیٹلائٹ پروگرام کو دور تک لے جانے میں بھی کامیابی حاصل ہوگی۔ ابھی جو سیٹلائٹ کام کر رہے ہیں وہ ٹی وی براڈکاسٹنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، ہوم لینڈ سکیوریٹی، اربن پلاننگ، ریل اسٹیٹ، لینڈ مینجمنٹ وغیرہ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ آج ہندوستان کی یہ ایک بڑی ضرورت ہے نہ کہ صرف آشائش کا ایک ذریعہ۔