21.04.2017

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف پناما پیپرس معاملے میں نااہل قرار دئیے جانے سے بال بال بچ گئے۔ پانچ ججوں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل خان ، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن ، پر مشتمل پاکستانی سپریم کورٹ کی ایک بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جناب شریف کو نااہل نہیں قرار دیا جاسکتا ہے اور ان کے اہل خانہ کے ذریعے غلط طریقے سے پیسوں کے لین دین کے معاملے میں مزید تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جے آئی ٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ جناب شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے ان کے خلاف بدعنوانی کے ثبوت ناکافی ہیں۔ عدالت نے جناب شریف اور ان کے دو بیٹوں حسن اور حسین کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔ جے آئی ٹی ، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے، نیشنل اکاؤنٹبلٹی بیورو، این اے بی، سیکوٹری اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور ملٹری انٹلی جینس، ایم آئی کے افسران پر مشتمل ہوگی۔یہ ٹیم ہر دو ہفتے میں بینچ کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

اس معاملے کی سماعت گذشتہ سال 3نومبر کو شروع ہوئی تھی اور عدالت عظمی نے 23فروری کو اس کی کارروائی ختم کرنے سے پہلے اس معاملے کی 35سماعتیں کیں۔ جناب شریف کے خلاف یہ معاملہ مبینہ طور پر غلط طریقے سے پیسوں کے لین دین کا ہے ۔ الزام ہے کہ جب وہ نوے کی دہائی میں دوسری مرتبہ وزیر اعظم تھے تو انھوں نے ایسی بدعنوانی کی تھی۔ اس میں لندن میں املاک کی خرید کا بھی ذکر ہے۔ یہ املاک گذشتہ سال اس وقت منظر عام پر آئیں جب پناما پیپرس لیک کے ذریعے یہ پتہ چلا کہ ان املاک کی دیکھ ریکھ وہ غیر ملکی کمپنیاں کرتی ہیں جو جناب شریف کے بچوں کی ملکیت ہیں۔ پناما پیپرس کے مطابق جناب شریف کے چار بچوں میں سے تین ،یعنی بیٹی مریم، اور بیٹے حسن اور حسین غیر ملکی کمپنیوں کے مالک ہیں اور وہ اس کے مالک تھے یا ان کے پاس کئی کمپنیوں کے لین دین کے اختیارات ہیں۔ یہ کیس پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور دوسرے لوگوں کی جانب سے داخل کی گئی ایک جیسی عرضیوں پر مبنی ہے جس میں جناب شریف کے اہل خانہ پر لندن میں املاک رکھنے کا مبینہ الزام عائد کیا گیا ہے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اس بات کی بھی تحقیق ہونی چاہیے کہ پیسہ قطر کیسے منتقل کیا گیا۔ پانچ رکنی بینچ نے این اے بی کے چیئرمین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاجو اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہا۔

فیصلہ آنے سے پہلے ملک کی راجدھانی اسلام آباد میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا تھا۔ تقریباً ایک ہزار پانچ سو سکیورٹی اہلکاروں کو شہر کے ریڈ زون کے آس پاس تعینات کیا گیا تھا۔ سکیورٹی فورسز اس زون کے داخلی اور خارجی سبھی مراکز پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

پناما پیپرس نے سیاست دانوں ، تاجروں اور دنیا بھر کے اعلیٰ طبقے کے لوگوں کے مبینہ غیر ملکی کاروباری سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات پیش کی ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کا معاملہ ایسی قیاس آرائیوں کے دوران سرخیوں میں آیا کہ اس سے ان کے مستقبل پر اثر ہوگا۔ ٹھیک اسی وقت عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی ، جس نے بدعنوانی کے الزامات عائد کرنے میں دوسروں کی قیادت کی ہے ، وہ کوشش کرے گی کہ آئندہ برس ہونے والے انتخابات سے قبل اس معاملے کو زندہ رکھے۔ اس معاملے کو جناب شریف اور عمران خان کے درمیان شہ اور مات کا کھیل بتایا گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو اس فیصلے سے بہت زیادہ خوش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اب ہونے والی تحقیق ان کے لیے سیاسی طور پر نقصاندہ ہوگی۔

اس فیصلے اور پناما پیپرس نے پاکستان میں انتخابات سے پہلے کی جنگ شروع کردی ہے۔ ایسے میں جب کہ پاکستان پہلے سے ہی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے نمٹ رہا ہے اور بین الاقوامی برادری نے بھی دہشت گرد گروپوں کا تعاون کرنے کے لیے اس کی سرزنش کی ہے، اب پناما پیپرس جناب شریف کو مصروف رکھنے والے ہیں۔ پاکستانی فوج بھی معاملے میں ہورہی پیش رفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ سابق آرمی سربراہ جنرل راحیل شریف بھی ایک مقبول چہرہ رہ چکے ہیں اور ایسا محسوس کیا جارہا ہے کہ وہ سیاسی منظرنامے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ ہے اور آنے والے انتخابات میں ووٹنگ پر اثر انداز ہو سکتا ہے ۔ اپوزیشن پارٹیاں اور سیاسی ماہرین نے دعوی کیا ہے کہ بدعنوانی کا معاملہ بالخصوص پناما پیپرس کے انکشافات پی ایم ایل-این پر اثر انداز ہو چکے ہیں اور سیاسی نقصان سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔پی ٹی آئی کی انتخابی قسمت اس معاملے کے حتمی فیصلے پر منحصر ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 2018کا الیکشن وزیر اعظم نواز شریف کے لیے بہت آسان معاملہ ہونے والا نہیں ہے۔