19-05-2017

ضروری نہیں کہ دو ملکوں کے رشتے اچھے ہی ہوں، خراب بھی ہوسکتے ہیں مگر تمام انصاف پسند ممالک اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ باہمی رشتے کی تلخی کا اثر انصاف کے نظام پر نہ پڑے۔ اگر کوئی ملزم سزا کا مستحق ہے، تبھی اسے سزا دی جائے لیکن جو سزا کا مستحق نہیں ہے، اسے اس لیے سزا نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ دشمن ملک کا باشندہ ہے مگر کل بھوشن جادھوکے معاملے میں پاکستان میں ہونے والی ساری فوجی عدالتی کارروائی سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں ملزم نہیں، مجرم سمجھا گیا اور اسی کی مناسبت سے عدالتی کارروائی عمل میں آئی لیکن اب ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالت انصاف نے واضح لفظوں میں یہ فیصلہ سنا دیا ہے کہ پاکستان، عدالت کے حتمی فیصلہ سنانے تک کل بھوشن جادھوکو پھانسی نہیں دے سکتا۔ جادھو کو مکمل قانونی امداد ملنی چاہیے۔ اس فیصلے سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے ہندوستان کے اس موقف کو تسلیم کیا ہے کہ کل بھوشن جادھو کو مکمل قانونی امداد مہیا کرائے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی۔ عدالت کا فیصلہ ہندوستان کی سفارتی فتح ہے۔

ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر کل بھوشن جادھو کو پاکستان نے ہندوستان کا جاسوس بتاکر گرفتار کیا تھا۔ ان پر کئی سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اس کے بعد ان کے خلاف پاکستان کی فوجی عدالت میں مقدمہ چلا اور انہیں موت کی سزا دی گئی۔ ہندوستان کو نہ یہ پتہ چل سکا کہ جادھو پاکستان گئے کیسے اور نہ یہ پتہ چل سکا کہ ان کے خلاف جو سنگین الزامات پاکستان نے عائد کیے ہیں، انہیں ثابت کرنے کے لیے عدالت میں کیا ثبوت پیش کیے گئے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ پاک میڈیا میں جادھو کی گرفتاری کی خبریں آنے کے 22 دن بعد ہندوستان کو اس حوالے سے مطلع کیا گیا۔ پاکستان سے پوچھا جانا چاہیے کہ اس تاخیر کی وجہ کیا رہی۔

پاکستان میں درج کی گئی ایف آئی آر میں کل بھوشن جادھو کو ہندوستانی تو بتایا گیا مگر ہندوستانی ہائی کمیشن کے حکام کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی ثبوت ہندوستان کو دکھایا گیا جبکہ پاکستان کے پاس کلبھوشن جادھو کو مجرم ثابت کرنے والا کوئی ثبوت تھا تو اسے ہندوستان کو دکھانا چاہیے تھا۔ پاک حکومت کو عالمی برادری کو یہ بتانا چاہیے کہ ہندوستانی ہائی کمیشن کے حکام کو کل بھوشن جادھو سے ملنے کی اجازت آخر کیوں نہیں دی گئی۔ کیا پاک حکومت ڈر گئی تھی کہ اگر ہندوستانی ہائی کمیشن کے حکام کی جادھو سے ملاقات ہوجائے گی تو وہ انصاف کے نام پر عدالتی کارروائی کا ڈرامہ نہیں کرسکے گی؟ اور پھر انہیں پھانسی کی سزا دے کر وہ یہ ثابت نہیں کرسکے گی کہ بلوچستان کے حالات کی خرابی کا سبب ہندوستان ہے، وہ خود نہیں؟

ہندوستان کی طرف سے بین الاقوامی عدالت انصاف میں وکیل ہریش سالوے کا یہ کہنا بجا ہے کہ ’ ہندوستان سمجھتا ہے کہ جادھو معاملے میں پاکستان کی فوجی عدالت کا فیصلہ مضحکہ خیز اور ناجائز ہے اور اس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔‘ اس لیے پاکستان کا یہ کہناکہ کل بھوشن جادھو کو سزائے موت سنانے کا تعلق پاکستان کی سلامتی سے ہے، مناسب نہیں ہے۔ پاکستان کو اگر اپنی سلامتی کی اتنی ہی فکر ہوتی تو دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں نہیں پھلتی پھولتیں، لیکن حالت تو یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ہندوستان کے بار بار ثبوت دینے کے باوجود پاکستان نے کبھی سنجیدہ کارروائی نہیں کی اور اب جادھو کے بہانے وہ ہندوستان کو بدنام کرنا چاہتا ہے، لیکن انہیں قانونی چارہ جوئی کا موقع نہ دے کر اس نے خود اپنے عدلیہ کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

جادھو معاملے میں پاک حکومت نے منظم طریقے سے کام کیا۔ اس نے ہندوستانی ہائی کمیشن کے حکام کی کلبھوشن جادھو سے ملنے کی اپیل 13 بار ٹھکرائی تب مجبوراً ہندوستان کوبین الاقوامی عدالت انصاف میں معاملہ لے کر جانا پڑا۔ اب عالمی عدالت نے جادھو کو مکمل قانونی امداد دینے کا فیصلہ سنایا ہے تو اس فیصلے کے حوالے سے تمام پاکستانی لیڈروں کی ایک رائے نہیں ہے۔ کچھ چاہتے ہیں کہ عدالت کا فیصلہ تسلیم کیا جائے اور کچھ چاہتے ہیں کہ فیصلہ تسلیم نہ کیا جائے۔ ویسے پاک حکومت نے یہ کہہ کر اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ ’جاسوسی کے معاملے میں قصوروار پایا گیا شخص ویانا معاہدے کے تحت نہیں آتا۔‘ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان نے جیسے یہ مان کر جادھو کو پھانسی کی سزا سنا دی کہ وہ جاسوس ہیں اسی طرح اس نے یہ بھی مان لیا ہے کہ وہ خود غلطی پر نہیں ہے اور یہی بات غلط ہے۔ ہندوستان نے بجا طور پر کہا ہے کہ ’اگر جادھو کو پھانسی دی جاتی ہے تو یہ جنگی جرائم کے برابر تصور کیا جائے گا۔‘ اس لیے پاکستان کو اپنی خواہ مخواہ کی اَنا چھوڑ دینی چاہیے، ورنہ آج تک دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان بدنام رہا ہے اور اگر جادھو کی سزا پر عمل کیا گیا تو وہ اس بات کے لیے ہمیشہ بدنام رہے گا کہ ہندوستان کی دشمنی میں اس نے کل بھوشن جادھو جیسے بے قصور انسان کو پھانسی دے دی۔