امریکی سفارت کار پر کردش ملیشیا کی حمایت کا الزام

ترکی نے اس سفارت کار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے جو آئی ایس سے مقابلہ کرنے والی اتحادی فوج کے خلاف کام کررہا ہے۔

ایشین ایج کی ایک خبر کے مطابق ترکی نے الزام لگایا ہے کہ امریکی سفارت کار شام حامی کرد جنگجوؤں کا ساتھ دے رہا ہے۔ ترکی کے صدر اردغان کی منگل کو امریکی صدر ڈونل ٹرمپ سے ملاقات ہوئی تھی اور دونوں نے ناٹو اتحادیوں سے تعلقات کو مستحکم کرنے کا عہد کیا تھا، لیکن اس کے ساتھ ہی صدر اردغان نے امریکہ کو شام میں کردش ملیشیا کو مسلح کرنے کے خلاف متنبہ کیا تھا۔

اخبار نے مزید تحریر کیا ہے کہ ترکی نے جرمنی کی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ وہ اپنی فوجوں کو ناٹو سے علاحدہ کرلے گا۔ اس سے قبل بھی شام کے قریب ایک فوجی اڈہ کے ایک قانون ساز کے دورے کے سلسلے میں ترکی کے منع کرنے پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان تنازع پیدا ہوچکا ہے۔