ریڈیو فیچر: ’’باغ وفا کی وہ مہکتی آواز‘‘

مجؔروح سلطانپوری

کہا جاتا ہے کہ مجروحؔ سلطانپوری صاحب فلمی نغمے لکھنا ہی نہیں چاہتے تھے مگر جگرؔ صاحب کے کہنے پر وہ رضامند ہوگئے اور ان کا پہلا گیت تھا ’’جب دل ہی ٹوٹ گیا، ہم جی کے کیا کریں گے‘‘ اور سہگل صاحب کی آواز میں گایا یہ نغمہ فلمی دنیا کے آسمان پر چھا گیا۔ کمال کی بات یہ ہے کہ جس فلم شاہجہاں سے مجروح ؔنے اپنے کیریر کی شروعات کی وہ ہی فلم محمد رفیع کی بھی پہلی فلم تھی۔

اسرار حسن خان یعنی مجروحؔ سلطانپوری اس معاملے میں خوش قسمت رہے کہ پروفیسر رشید احمد صدیقی اور جگر مراد آبادی جیسے اکابرین کی محبت انہیں حاصل رہی۔ اپنے بے مثال فلمی کیریر میں مجروح نے تقریباً 4 ہزار یادگار نغمے لکھے۔ راج کپور، دیو آنندد اور دلیپ کمار جیسے اداکاروں سے لیکر عامر خان کی نسل تک کے نئے اداکاروں کی کامیابی میں مجروحؔ کا اہم رول ہے۔

آج بھی ان کے لکھے گیت خوبصورت یادوں کی ایک ایسی جھومتی گاتی دنیا میں لے جاتے ہیں جہاں ایسی حسن و نغمگی کا بول بالا ہے جو دراصل اردو جمالیات کی پروردہ ہے۔