ریڈیو فیچر: ’’کس نے مارا منٹو کو‘‘

سعادت حسن منٹو

آل انڈیا ریڈیوسےہی سعادت حسن منٹو کی کامیاب کہانی کی شروعات ہوئی۔ تقسیم سے پہلے کے دور میں آل انڈیا ریڈیو میں نامور ادیبوں اور شاعروں کی ایک پوری کہکشاں روشن رہتی تھی‘ ان درخشاں ستاروں میں شامل تھے سعادت حسن منٹو بھی۔

منٹو کی تخلیقی صلاحیتوں اور ایماندارانہ جرأت اظہار نے ان کو شہرت کے ساتھ ساتھ لاتعداد قتوں اور رسوائیوں سے بھی دوچار کیا۔ سعادت حسن جس معاشرے کو اس کی تصویر دکھانے کی کوشش کررہے تھے’ وہ معاشرہ دراصل حقیقت سے آنکھیں چار کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔

اپنی تحریروں کی وجہ سے منٹو کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا۔

اردوس سروس کا یہ خصوصی فیچرعکاس ہےسعادت حسن منٹو کی زندگی اور ان تلخ حقائق کا کہ جن کے بارے میں شاید عام آدمی کو کوئی خبر بھی نہ رہی ہو۔