ریڈیوفیچر: بہار خزاں کا وہ آخری پتہّ

 جگر مرادآبادی

اردو شاعری کی تاریخ میں ایک ایسا شاعر بھی گزرا ہے جنہوں نے اپنے بارے میں خود یہ کہا تھا کہ

شاعر فطرت ہو ں میں ،جب فکر فرماتا ہوں میں

روح بن کر ذرّے ذرّے میں سما جاتا ہوں میں

خوبصورت لب ولہجہ ، مسحور کردینے والی آواز اور دلوں کو گرمادینے والے اس شاعرکو ہم جگر مرادآبادی کے نام سے جانتے ہیں۔ آج بھی جگر کی بے مثال کلاسیکی غزلیں اور مترنم وجگر سوز آواز ہمارے کانوں میں گردش کر رہی ہے اور رہتی دنیا تک اس عدیم المثال شاعر کو پاسبان اردو اپنے لئے توشہ ادب سمجھیں گے۔آل انڈیا ریڈیوکی اردو سروس کی جانب سے اس شاعر فطرت کی زندگی پر مبنی ایک خوبصورت فیچر’بہار خزاں کا وہ آخری پتہ‘سماعت فرمائیں۔