ریڈیو فیچر: میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

 مصطفی زیدی

مصطفی زیدی نے جب الہ آباد میں شاعری کی شروعات کی تھی تو اس زمانے میں وہ تیغ الہ آباد ی ہوا کرتے تھے۔ الہ آباد میں ان دنوں راہی معصوم رضا، ابن صفی، مصطفی زیدی اور ابن سعید جیسے اہل قلم حضرات اپنے منفرد انداز اور لہجے کی تلاش میں سرگرداں تھے۔

مصطفی زیدی کی شاعری  کے خمیر میں تخیل اور بیان کی قد رت  جیسی خصوصیات موجود تھیںجن کے باعث ان کی شاعری اپنے عہد کے شعری افق پر ایک روشن ستارہ بن کر چمکی ۔ نجی اور اجتماعی بحران کے د وران مصطفی زیدی کو جس دردوکرب سے گزرنا پڑا اس کی بازگشت ان کی شاعری میں سنائی دے جاتی ہے۔  مصطفی زیدی کے شعری مجموعے موج میری صدف صدف ،شہر آرزو، زنجیر، کوہ نداں اور قبائے ساز ، جدید اردو کے شعری ادب میں گراں قدر اضافہ مانے جاتے ہیں۔ مصطفی زیدی کی شاعری اور ان کی زندگی سے متعلق اہم گوشوں پر روشنی ڈالتا ہےآل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس کا یہ خصوصی فیچر ۔میرے لئے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں  نہیں ہے