ریڈیو فیچر: شعلہ جو جل بجھا

مہدی حسن

 فنکار  کو فنکار بننے کے لئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ محض فنکار  انہ صلاحیتوں کا مالک ہونا کافی نہیں ہوتا۔ محنت اور ذہانت دونوں کا حسین سنگم کم ہی لوگ پورا کرپاتے ہیں۔شہنشاہ غزل مہدی حسن کو قطرے  سے گہر ہونے تک سخت محنت  اور ریاضت سے گزرنا پڑا۔  مہدی حسن کی گلوکاری ایک عہد کی مکمل داستان ہے۔ گائیگی کے لئے  چونکہ سانس کی غیر معمولی صلاحیت درکار ہوتی ہے اور مہدی حسن جوانی میں کئی کلو میٹر کی دوڑ کے بعد بیٹھکیں بھی  لگایا کرتے تھے۔ انکے استاد اسمعیل خان کہا کرتے تھے کہ گائیگی کے لئے سخت اور اعصاب شکن ورزش ناگزیر ہے۔

مہدی حسن کو ان کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر کی کوششوں سے کراچی ریڈیو پر گانے کا موقع ملا ۔ ان کے آڈیشن  سے متعلق بھی ایک بے حد دلچسپ واقعہ ہے جو آپ کو اس فیچر میں سننے کو ملے گا۔ دھیرے دھیرے ریڈیو کے ذریعہ جو کہ ا س وقت سب سے مقبول ترین ہوتا  تھا، مہدی حسن کی آواز گھر گھر پہونچی اور سامعین کے ہوش و حواس پر ہمیشہ کے لئےچھاگئی۔

اردو شاعری  کے آسمان پر روشن ستاروں کا درجہ  رکھنے والی سینکڑوں غزلیں مہدی حسن نے بے انتہا کمال سے گائیں۔ اس طرح کی دیگر معلومات سے آراستہ ہے  مہدی حسن پر یہ خصوصی فیچر’’شعلہ  جو جل بجھا‘‘