17.07.2017

برسوں بلکہ دہائیوں سے پاکستانی فوج نے ہندوستان کے خلاف درپردہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ہندوستان پر کئی جنگلیں تھوپنے اور ان جنگوں میں منہ کی کھانے کے بعد اس نے یہ انوکھا طریقہ ایجاد کیا کہ دہشت گرد گروپوں کو ٹریننگ اور اسلحوں سے لیس کرکے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تخریب کاری کے لئے بھیجا جائے ۔ اس نے پنجاب میں بھی یہی کھیل کھیلا اور گزشتہ کوئی تین دہائیوں سے کشمیر میں وہ مسلسل تخریب کاری اور دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج لگاتار اشتعال انگیز کارروائیاں کررہی ہے جس میں سیز فائر کی خلاف ورزی سے لے کر مسلح ملی ٹینٹ کی دراندازی تک شامل ہے۔ ان دہشت گردوں کو پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کی بھر پور حمایت اور سرپرستی حاصل رہتی ہے۔ ہم نے یہاں قصداً پاکستان کا نام نہیں لیا ہے بلکہ پاکستانی فوج کو ان تمام سرگرمیوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے کیونکہ یہ بات اہل پاکستان سے لے کر پوری دنیا کے لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی وہاں کے عوامی نمائندے نہیں بلکہ فوجی جنرل طے کرتے ہیں اور وہی دہشت گردوں کو اپنے آلۂ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کی سرگرمیاں کشمیر تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ ہندوستان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔اور ان کی تمام سرگرمیوں میں پاکستان کی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کا بھرپور تعاون انہیں ملتا ہے۔ 2008 میں ممبئی پر جو حملہ ہوا تھا وہ بھی ان کی ملی بھگت ہی کا نتیجہ تھا۔

اب چند برسوں سے یہی کھیل پاکستانی فوج افغانستان میں بھی کھیل رہی ہے ۔ وہاں کی منتخب حکومت کو ڈانوا ڈول کرنے کے لئے وہ افغان طالبان اور حقانی نٹ ورک وغیرہ کو استعمال کررہی ہے جن کی پناہ گاہیں پاکستان ہی بھی واقع ہیں۔ دراصل پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کا کام ہی پڑوسی ملکوں کو غیر مستحکم کرنے کے لئے تخریب کاری کو فروغ دینا ہے۔ لیکن دہشت گردی کو حد سے زیادہ فروغ دینے کے نتیجہ میں اب خود پاکستان بھی دہشت گردوں کے نرغے میں آگیا ہے اور آئے دن وہاں حملے ہورہے ہیں۔ یہ دہشت گرد وہی ہیں جنہیں کبھی خود پاکستانی فوج اور ایجنسیوں نے ٹریننگ اور ہتھیاروں سے لیس کیا تھا لیکن،ن ان پر قابو پانا اب ان کے لئے مشکل امر ہوچکا ہے۔ لہٰذا بوکھلاہٹ کے عالم میں پاکستانی فوج نے اپنی ناکامی کو پڑوسی ملکوں کے سرمنڈھنا شرو ع کردیاہے۔

چنانچہ حال ہی میں پاکستان کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل زبیر محمود حیات نے بڑی ڈھٹائی سے ہندوستان کے خلاف یہ الزام عائد کردیا کہ ہندوستان کی ایجنسی را پاکستان کو غیر مستحکم بنانے کے لئے دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے۔ جنرل حیات نے کہا کہ را بلوچستان میں بد امنی پھیلانا چاہتی ہے ا ور چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے اقتصادی پروجیکٹ کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ ہندوستان پر یہ گھٹیا الزام بھی لگایا گیاکہ وہ افغانستان میں واقع اپنے مختلف قونصل خانوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔

اس جھوٹے الزام کا نوٹس لیتے ہوئے افغانستان کی وزارت دفاع نے پاکستان کی زبردست سرزنش کی ہے اور کہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی بھی پڑوسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان جنرل دولت وزیر ی نے کہا ہے کہ ایسا گھٹیا الزام لگانے کے بجائے پاکستان کو خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ وہ اپنے یہاں ان تمام دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے جو پڑوسی ملکوں کو غیر مستحکم بنانے کی ہمہ وقت کوشش کرتے ہیں۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اب پوری دنیا اس بات سے واقف ہوچکی ہے کہ پاکستان افغانستان کا نظم و ضبط اپنے پراکسیز کے ذریعہ چلانا چاہتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس معقول جواب کے بعد مزید کسی جواب یا وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ ہندوستان کی طرف سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ پڑوسی ملک کو غیر مستحکم نہیں بلکہ مضبوط اور مستحکم دیکھنا اس کی پالیسی کا بنیادی جزو رہا ہے۔ کسی کی اقتصادی ترقی کے پروجیکٹ کو نقصان پہنچانا اس کا شیوہ کبھی نہیں رہا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا جہاں تک سوال ہے تو ہندوستان کو اس بات پر اعتراض ہے کہ یہ مقبوضہ کشمیر سے ہوکر گزرتی ہے جو ہندوستان کا حصہ ہے اور پاکستان نے ناجائز طور پر اس پر قبضہ کر رکھا ہے۔ پاکستان اور چین کے اقتصادی اشتراک و تعاون سے ہندوستان کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔کسی کے اقتصادی پروجیکٹ کو نقصان پہنچانا بیمار ذہنیت کے لوگوں کا کام ہوتا ہے۔