تخریبی کارروائیوں کے لئے ہندوستان کے ذریعے افغان سرزمین کے استعمال کا پاکستان کا الزام، افغانستان نے کی سختی سے تردید

اخبار اسٹیٹمیسن نے ہی افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کی خبر کو بھی شائع کیا ہے۔ اخبار کے مطابق دونوںممالک کے درمیان ایک تازہ زبانی جنگ چھڑ گئی ہے۔ اس کی بنیاد پاکستان کے ایک اعلیٰ فوجی جنرل زبیر محمود حیات کا وہ بیان ہے جس میں الزم لگایا گیا ہے کہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را، سی پی ای سی کو سبوتاژ کرنے کے علاوہ پاکستان میں تخریبی کارروائیاں انجام دینے کے لئے افغان سرزمین کا بے جااستعمال کررہی ہے۔ اس بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے افغان وزارت دفاع کے ترجمان جنرل دولت وزیری نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے پڑوسی ممالک میں تخریبی سرگرمیاں انجام دینے کے لئے اپنی سرزمین کے بے جا استعمال کی نہ کبھی کسی کو اجازت دی ہے اور نہ ہی مستقبل میں وہ ایسا کرے گا۔ اخبار نے ذرائع کے حوالے سے آگے تحریر کیا ہے کہ بے بنیاد الزام تراشی کے بجائے پاکستان خود اپنا احتساب کرے کہ وہ کس طرح اپنے پڑوسی ممالک خصوصاً افغانستان اور ہندوستان میں عدم استحکام پیدا کرنے والی طاقتوں کی حوصلہ افزائی اور حمایت کررہا ہے۔ یہاں تک کہ ایران نے بھی پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لئے وہ کچھ بھی نہیں کررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بین الاقوامی برادری بھی پاکستان کے مذموم عزائم سے پوری طرح آگاہ ہوچکی ہے جو افغانستان کو اپنے پوشیدہ عزائم کے مطابق چلانا چاہتا ہے اخبار نے آخرمیں تحریر کیا ہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان اسی طرح کی بے بنیاد الزام تراشیاں کرتا رہا ہے۔