آسام میں سیلاب سے مہلوکین کی تعداد 60، گجرات میں بارش سے دو مزید ہلاکتیں، کل تعداد 11

آسام میں سیلاب سے ہلاک شدگان کی تعداد ساٹھ تک پہنچی۔ یہ سرخی ہے اخبار انڈین ایکسپریس کی۔ اخبار کے مطابق، حالانکہ آسام میں دریائے برہمپتر اور اس کی شاخوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن موری گاؤں ضلع میں نو تعمیر باندھ میں دراڑ پڑ جانے سے زبردست نقصان ہوا ہے اور لاہوری گھاٹ سب ڈویژن میں ایک درجن گاؤں زیر آب آگئے ہیں۔ اتوار کے روز جنوبی سلمارا، ڈھبری اور موری گاؤں سب سے زیادہ متاثر اضلاع رہے۔ آسام میں آئے سیلاب میں دو لاکھ ہیکٹر اراضی پر پھیلی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں اور دس لاکھ افراد کے مکانات زیر آب آچکے ہیں جبکہ بائیس ہزار لوگ اب بھی ایک سو اٹھارہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔اخبار نے گجرات میں شدید بارش کے حوالے سے ایک اور خبر میں تحریر کیا ہے کہ وہاں دو مزید ہلاکتوں کے بعد مرنے والوں کی کل تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔پچھلے کچھ دنوں میں موروبی ، راجکوٹ ، سریندر نگر اور جام نگر اضلاع میں شدید بارش کی وجہ سے ہزاروں لوگ سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ فضائیہ اور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ نے سیلاب زدہ علاقوں سے اب تک چار سو پانچ افراد کو بحفاظت نکالا ہے اور تقریباً دو ہزار افراد کو ترائی کے علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔