ڈوکلام پر چین کے دعوے کو بھوٹان نے کیا مسترد

’’حکومت بھوٹان نے ڈوکلام پر چین کے دعوے کو کیا مسترد “یہ سرخی ہے روزنامہ ایشین ایج کی۔ اخبار نے 29 جولائی کو جاری حکومت بھوٹان کےبیان کے  حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اس معاملے میں اس کی پوزیشن بالکل واضح ہے۔ مزید یہ کہ اس نے سفارتی اور دیگر ذرائع سے چین کو مطلع کردیا تھا کہ اس کے علاقے میں چین کے ذریعے سڑک کی تعمیر دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لہذا جون 17 سے پہلے کی حالت کو بحال کیا جائے۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ بھوٹان اور چین کے درمیان 1988 اور 1998 کے تحریری معاہدوں کی رو سے سرحدی تنازع کے حل ہونے تک دونوں ملک سرحدی علاقوں میں امن وامان برقرار رکھیں گے۔ اخبار نے بیجنگ سے خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے حوالے سے آخر میں تحریر کیا ہے کہ سرحدی معاملے سے متعلق اعلی اختیاراتی سفارت کار وانگ وین لی (WANG WENLI) نے دعوی کیا تھا کہ بھوٹان نے سفارتی ذرائع کے ذریعے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ڈوکلام اس کے علاقے کا حصہ نہیں ہے جس کی بھوٹان بار بار تردید کرتا رہا ہے۔