پاکستان میں سول-فوجی تعلقات بدسے بدتر: پاکستان تھنک ٹینک

پاکستان میں جمہوریت، انتظامیہ اور عوامی پالیسی پر توجہ مرکوز کرنے والے غیر جانبدار تھنک ٹینک پاکستان ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرینسی یعنی پلڈیٹ (PILDAT)نے اپنی جولائی کی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ ملک میں سول –ملٹری تعلقات کے حوالے سے سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اور آنے والے وقت میں یہ تعلقات بد سے بدتر ہوسکتے ہیں۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا نے یہ خبر دیتے ہوئے پلڈیٹ کے صدر احمد بلال محبوب کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ان بد سے بدتر ہوتے تعلقات کی وجہ سے آئندہ دنوں میں بحران جیسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔ پلڈیٹ مانیٹر کے مطابق پنامہ پیپرس مقدمے میں نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اس نظر سے دیکھاجارہا ہے کہ نواز شریف کی بے دخلی کی اہم وجہ بدعنوانی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ ہندوستان اور افغانستان کی تئیں مصالحانہ پالیسیاں ہیں جن کی وجہ سے فوج کا غلبہ ک ہوتا جا رہا تھااور مبینہ طورپر یہ مطالبہ بھی تھا کہ آئی ایس آئی ، دہشت گرد گروپوں کا خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال ترک کردے۔ رپورٹ میں بین الاقوامی میڈیا کے اس الزام کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ وزیراعظم کی بے دخلی کے پس پشت، سویلین حکمرانو ں کے خلاف ، فوج کے ساتھ سپریم کورٹ کا تعاون بھی شامل تھا۔ نیز اس فیصلے نے ملک کی کمزور جمہوریت کو مزید کمزور کرتے ہوئے ہمیشہ کی طاقتور فوج کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اقتدار کو چھینے بغیر اس پر قابض ہوجائے۔