اختلاف رائے کی آزادی کا تحفظ ضروری: حامد انصاریہندوستان میں اقلیتیں کہیں زیادہ محفوظ: وینکیا نائیڈو کا بیان

 آج ملک کے بیشتر اخبارات نے رخصت پذیر نائب صدر حامد انصاری کی الوداعیہ تقریب کے تعلق سے خبریں شائع کی ہیں۔ اخبار ٹری بیون نے حامد انصاری کے حوالے سے اس توقع کااظہار کیا ہے کہ ان کے ذریعے تجویز کردہ پارلیمانی ضابطوں کو نئے چیئرمین بی جے پی،  کے ایم وینکیا نائیڈوجاری رکھیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے حکومت کو اقلیتوں کے تئیں فرائض کی یاددہانی کراتے ہوئے اقلیتوں پر زوردیا کہ حکومت کے تئیں بھی ان کے کچھ فرائض ہیں، جن کو انہیں بھولنا نہیں چاہیے۔ جناب انصاری نے مزید کہا کہ حکومت پر تنقیدکا ان کو پورا حق حاصل ہے لیکن اس کےساتھ ساتھ اس حق کو پارلیمنٹ کی کارروائی میں جان بوجھ کر رخنہ اندازی کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اخبار نے آخر میں تحریر کیا ہے کہ رخصت پذیر نائب صد ر نے ایوان کی کارروائی کے دوران ارکان کےروئیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سٹیزن باڈی اس پر نگرانی رکھتی ہے اور ان کو عجلت میں قانون سازی سے پرہیز کرنا چاہیے۔

اسی دورا ن نئے نائب صدر وینکیا نائیڈو نے اس خیال کی سختی سے تردید کی کہ اقلیتوں کے درمیان عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ اخبار ہندو نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ہندوستا ن میں اقلیتیں کہیں زیادہ محفوظ ہیں اور ان کو جائز حقوق حاصل ہیں۔ جناب وینکیا نائیڈو نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا کہ ملک میں عدم رواداری بڑھ رہی ہے اور کہا کہ ہندوستانی معاشرے میں یہاں کے عوام کے درمیان اخوت ویگانگت اور تہذیب وتمدن کی وجہ سے سب سے زیادہ رواداری پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت یہاں کامیاب ہے۔