12-08-2017

شمالی کوریا نے بحرالکاہل جزائر میں واقع امریکہ کے فوجی اڈے گوام پر میزائل حملے کی دھمکی دی ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ نے کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے ایسی حرکت کی تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ اس دھمکی اور جوابی دھمکی سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹیس (Jim Mattis) نے بھی شمالی کوریا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کی کارروائی کے بارے میں سوچنے کی ہمت بھی نہ کرے کیوں کہ اس کی فوجی طاقت امریکہ کی فوجی طاقت کے سامنے کچھ بھی نہیں۔

اس بات کے امکانات بہت ہی کم ہیں کہ شمالی کوریا گوام پر حملہ کرے گا تاہم وہاں کے تانا شاہ کم جونگ اُن (Kim Jong-un) کے جارحانہ رویہ کی وجہ سے اسے بالکل خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ شمالی کوریا کی دھمکی محض لفاظی بھی ہوسکتی ہے لیکن یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں کہ اپنے نیوکلیائی اور میزائل پروگراموں کی وجہ  اسے بین الاقوامی توجہ ملی ہے جس کے بعد اس کے اعتماد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے اور پابندی عائد کرنے کے روایتی راستے پر گامزن ہے۔ دراصل حال ہی میں امریکہ کی قیادت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کرکے شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کردیں۔ تمام پابندیوں اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود کم جونگ اُن کا ٹرمپ انتظامیہ پر زبانی حملہ جاری ہے۔

شمالی کوریا کا امریکہ پر زبانی حملہ ایک چالاک حکمت عملی معلوم دیتی ہے۔ اس کا مقصد شاید آہستہ آہستہ امریکہ کو اس بات کا اعتراف کرانا ہے کہ پیانگ یانگ کو واشنگٹن کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ کم جونگ اُن کی اپنی حکومت کے خلاف بین الاقوامی دباؤ پیدا کرنے کی  حکمت عملی کافی عرصے سے رہی ہے۔ یہ حکمت عملی اس لئے اپنائی جارہی ہے تاکہ امریکہ سمیت عالمی برادری شمالی کوریا کو ایک جوہری طاقت کے طور پر تسلیم کرلے اور پھر تمام مسائل کا حل تلاش کرے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ پر شمالی کوریا کا زبانی حملہ جاری ہے۔

گوام پر حملہ کی دھمکی کافی خطرناک ہے تاہم کم جونگ اُن کو ایسی باتیں کرنا پسند ہیں جو معمول کے مطابق نہ ہوں۔ اس لئے گوام پر حملے کی امید بہت ہی کم ہے تاہم شمالی کوریا کے تاناشاہ اس انداز میں میزائیل حملہ کرسکتے ہیں کہ گوام پہنچنے سے پہلے ہی میزائیل دھماکے سے پھٹ جائے۔ گوام پر میزائیل حملے کے تین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اوّل یہ کہ ایشیا بحرالکاہل علاقہ میں عدم استحکام کی صورتحال برقرار رہے گی۔ دوئم اس سے بین الاقوامی برادری پر شمالی کوریا کی آئی سی بی ایم کی صلاحیت کا مظاہرہ ہوگا۔ سوئم یہ کہ حملہ جاپانی اور جنوبی کوریا میں خوف پیدا کرسکتا ہے۔ شمالی کوریا کا خیال ہے کہ اس طرح کی کارروائی کا اثر اس کے اتحادی چین پر بھی پڑسکتا ہے جو یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ شمال مشرقی ایشیاء کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے کیسے نپٹا جائے۔

شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کرنے کے معاملے پر چین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر ارکان خصوصاً امریکہ کے درمیان ہمیشہ اختلافات رہے ہیں۔ چین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کی نیوکلیائی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے اس پر پابندیاں عائد کرنا کوئی موثر طریقہ نہیں۔ ماضی میں چین نے اقوام متحدہ  سلامتی کونسل کی پابندیوں کی حمایت تو کی تھی مگر یہ کہتے ہوئے سخت پابندیوں کی مزاحمت بھی کی تھی کہ شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اقوام متحدہ کو مبینہ طور پر نرم پابندیاں عائد کرنا چاہئے۔

شمالی کوریا کے انسانی اور معاش سے متعلق پہلوؤں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے ، چین کی خواہش ہے کہ شمالی کوریا کے اہم مدافعت کار کے طور پر وہ اسکا  تحفظ کرے اور خطے میں اسٹریٹیجک طور پر برتر رہے۔ اس کے علاوہ شمال مشرقی ایشیا چین کا اپنا علاقہ ہے اور بیجنگ نہیں چاہتا کہ وہاں کسی بھی طرح کا انسانی یا فوجی بحران پیدا ہو۔

ہندوستان شمال مشرقی ایشیا میں بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکومت ہند نے شمالی کوریا کے میزائیل تجربوں کی بھی مذمت کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا نیوکلیائی پروگرام ہندوستان کے پڑوسی ممالک کی سلامتی کیلئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ ہندوستان کو چاہئے کہ وہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر قریب سے نگاہ رکھے۔