روہنگیا معاملہ پر اقوام متحدہ کی تنظیم کی تنقید پر بھارت نے افسوس ظاہر کیا

اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے سید اکبر الدین نے کہا ہے کہ اگر کوئی قانون نافذ کیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ  قانون نافذ کرنے والے میں رحم دلی یا درد مندی کی کمی ہے ۔انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ اقوا م متحدہ کی تنظیم نے دہشت گردی کے مرکزی کردار کو نظر انداز کر دیا۔

جناب اکبر الدین اقوام متحدہ میں حقوق انسانی کے ہائی کمشنر کے اس بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کر رہے تھے جس میں انہوں نے بھارت کے روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے  کے منصوبے کی مذمت کی تھی۔جناب اکبر الدین نے کہا کہ بھارت کو خاص طور پر غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں فکر ہے کیونکہ ان سے ملک کی سلامتی کو خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

اس سے پہلے جنیوا میں اقوا متحدہ کے لئے بھار ت کے مستقل نمائندے راجیو کے چندر نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کا تجزیہ کوئی سیاسی سہولت کا معاملہ نہیں ہے ۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے 36 ویں اجلاس میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ دہشت گردی کے مرکزی رول کو ایک بار پھر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا معاملہ اٹھایا گیا ہے ،جناب چندر نے کہا کہ اپنے مطلب کی بلکہ غلط رپورٹوں کی بنیاد پر کسی رجحان کو فروغ دینے والے فیصلے کسی بھی سماج میں انسانی حقوق کی تفہیم کو آگے نہیں بڑھاتے ۔انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آزادیوں اور حقوق کی نا مناسب تحسین کی گئی ہے جن کی ضمانت بھارت روز مرہ سطح پر دیتا ہے  اور جو ہمارے یہاں رواج پا گئی ہیں۔