13-09-2017

آج کی بات

جب صدر ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کا علان کیا تھا اور جس میں انہوں نے ہندوستان کی طرف سے نمایاں رول ادا کئے جانے کی بات کہی تھی تو پاکستان میں اس کا شدید رد عمل ہوا تھا اور یہ تک کہا گیا تھا کہ افغانستان میں اپنی نا کامی کو چھپانے کے لئے امریکہ پاکستان کو قربانی کا بکرا نہ بنائے اگر چہ برکس اعلامیہ جاری ہونے کے بعد یعنی یہ بات سامنے آجانے کے بعد کہ چین بھی دوسرے ممالک کی طرح لشکر طیبہ ،جیش محمد اور حقانی نٹ ورک جیسی تنظیموں کو علاقائی امن و استحکام کے لئے خطرہ تصور کرتا ہے پاکستان کے لہجے میں قدرے تبدیلی آئی اور پاکستان کے وزیر خارجہ نے یہ کہنا شروع کیا کہ پاکستان میں سر گرم بین الاقوامی پیمانے پر دہشت گرد قرار دئیے گئے گروپوں پر پابندی عائد کرنا ناگزیر ہو گیا ہے ۔اور بھی متعدد پاکستانی لیڈروں اور سفارت کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں لازمی طور پر تبدیلی کرنا ہوگی۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا نے راول پنڈی میں یہ کہا کہ کشمیر کا معاملہ سیاسی اور سفارتی سطح پر حل کیا جانا چاہئے ۔سرکاری سطح پر حالیہ دنوں میں تبدیلی کا جو اشارہ ملا ، اس سے قطع نظر پاکستانی میڈیا میں بھی بڑے پیمانے پر ان باتوں کا ذکر ہوا۔ پاکستانی اخباروں میں لگا تار ایسے تجزیئےاور ادارئیے شائع ہو رہے ہیں جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تبدیلی کی ایک لہر سی آئی ہے۔

ہندوستان ایک پڑوسی ملک کی حیثیت سے پاکستان کی سوچ میں نظر آنے والی اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتا ہے بشرطیکہ وہاں کا سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ  صحیح معنوں  میں کسی بنیادی تبدیلی کے حق میں ہو ۔جنرل باجوا نے اپنے بیان میں یہ تو کہا کہ کشمیر معاملہ کو سیاسی اور سفارتی سطح پر سلجھانے کی کوشش کی جانی چاہئے لیکن ساتھ ہی انہوں نے ہندوستان پر یہ  الزام بھی عائد کیا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا مرتکب ہو رہا ہے ۔اگر پاکستان واقعی اچھے تعلقات اور علاقے میں امن قائم کئے جانے کا خواہاں ہے تو اسے اس طرح کے بیان دینے سے گریز کرنا چاہئے ۔ہندوستان جموں و کشمیر کے عوام سمیت اپنے تمام شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کرتا ہےاور ان کے مسائل کو سلجھانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے ۔اتنے بڑے ملک میں کہیں کہیں مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں لیکن انہیں جمہوری طریقہ کار اختیار کر کے حل کیا جاتا ہے اور اس میں کامیابی ملتی ہے ۔چنانچہ ہندوستان کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے حال ہی میں ریاست جموں و کشمیر کا دورہ کیاا ور کئی روز وہاں رہ کر لوگوں سے بات چیت کی ۔انہوں نے کھلے دل سے ہر سیاسی گروپ حتیٰ کہ علیحدگی پسندوں کو بھی گفت و شنید کی دعوت دی ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالات کو نارمل بنانے اور مختلف حلقوں سے بات چیت کرنے کے لئے انہیں جتنی بار بھی ریاست کا دوہ کرنا پڑے گا وہ کریں گے۔ایسی صورت میں خطے میں حالات کو بہتر بنانے میں پاکستان کو بھی مثبت رول ادا کرنا چاہئے۔ صرف یہ الزام لگا دینے سے بات نہیں بنے گی کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔اگر الزام تراشیوں کا سلسلہ چلتا رہے گا تو بہت ساری باتیں ایسی ہوں گی جو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بہت نا گوار گذریں گی ۔ مثلا ًپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پاکستانی ایجنسیوں نے کس طرح قوم پرست بلوچیوں کا جینا دو بھر کر رکھا ہے ۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ابھی کوئی ماہ ڈیڑھ ماہ قبل ہی صوبہ سندھ میں جئے سندھ قومی محاذ نے ایک زبر دست ریلی کا اہمتام کیا تھا جس میں پاکستانی ایجنسیوں اور رینجرس کے ظلم و جبر کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان سے آزاد ہونے کی مانگ کی گئی تھی۔

ظاہر ہے اگر ان باتوں کا ذکر کیا جائے گا تو پاکستانی حکام کو برالگے گا۔ لیکن ہندوستان عام طور سے اندرونی معاملات کا ذکر کرنے سے گریز کرتا ہے ۔پاکستانی حکام کو بھی چاہئے کہ وہ ہندوستان کے اندرونی معاملات کے تعلق سے ذمہ دار انہ رویہ اختیار کریں۔ کشمیر کے حالات خراب اس لئے ہوئے ہیں کہ پاکستان براہ راست مداخلت کرتا ہے اور وہاں کی فوج اور ایجنسیاں در اندازوں اور دہشت گردوں کی مدد سے حالات خراب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔اگر دراندازی اور دہشت گردی کا سلسلہ رک جائے تو خطے میں امن کا ماحول قائم کرنے میں آسانی پید اہوگی۔ امن کے ماحول ہی میں سیاسی اور سفارتی سطح کی گفتگو کے لئے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔اگر پاکستان واقعی اس خطے میں بہتر ماحول بنائے جانے کا حامی ہے تو ظاہری طور پر سوچ میں تبدیلی کا جو اشارہ مل رہا ہے اسے وہ عملی سطح  پر بھی ظاہر کرے۔