ہند۔جاپان تعلقات بدل سکتے ہیں ایشیا کا منظر نامہ:ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ

جا پان کے وزیر اعظم شنزو آبے ان دنوں ہندوستان آئے ہوئے ہیں ۔ہندوستان کے ساتھ جا پان کے تعلقات اور شنزو آبے کے دورے کی اہمیت کے پیش نظر بیشتر اخبارات نے متعلقہ خبروں کو جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے اور اس پر ادارئیے تحریر کئے ہیں ۔اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اپنے ادارئیے میں اس پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت سے ہندوستان اور خطے میں ترقیاتی منظر نامہ تبدیل ہو سکتا ہے ۔اخبار کے مطابق گزشتہ برسوں میں ہندوستان کو جا پانی بر آمدات میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔2005 میں یہ بر آمدات 22 ہزار 900 کرورڑ روپے تھیں جو 2015 میں بڑھ کر 57 ہزار 800 کروڑ روپے ہو گئی ہیں۔اور آج ہندوستان میں ایک ہزار 305 جاپانی کمپنیوں کی شاخیں موجود ہیں۔دہلی میٹرو اور دہلی۔ممبئی صنعتی راہداری جیسے پروجیکٹوں میں جاپان کی موجودہ اور مجوزہ سرمایہ کاری سے ملک میں زبر دست تبدیلی آئی ہے جو مستقبل میں مزید  انقلاب کا باعث بن سکتی ہے۔جاپان، ممبئی۔احمد آباد بلٹ ٹرین پروجیکٹ کے لئے ایک اعشاریہ ایک لاکھ کروڑ روپئے کی مالی امداد بھی دے رہا ہے ۔اس پر وجیکٹ کا  سنگ بنیاد دونوں وزرائے اعظم مشترکہ طور پر رکھیں گے۔اخبار ہند۔جاپان تعلقات  کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہوئے رقمطراز ہے کہ دونوں ممالک ،آبے کے دورے کے موقع پر مفاہمت کی دس دستاویزات پر بھی دستخط کریں گے۔لیکن اس سے زیادہ اہم ،متوقع ایشیا افریقہ گروتھ کاریڈور ہے جو افریقہ میں انسانی وسائل کی ترقی میں اضافہ کے لئے بے حد مدد گار ثابت ہوگا نیز اس سے معیاری بنیادی ڈھانچے کی تشکیل  اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطے میں بھی اضافہ ہوگا۔اخبار نے اپنے ادارئیے میں اس پروجیکٹ سے چین کے ون بیلٹ ون روڈ پروجیکٹ کا  موازنہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ چین اپنے پروجیکٹ کے ذریعہ دیگر ایشیائی طاقتوں کو بزور قوت بازو ایک طرف کرتے ہوئے اور اپنے زبر دست زر مبادلہ کا استعمال کر کے بیرون ملک معاشی ترقی کا خواہاں ہے جبکہ جا پان اور ہندوستان کثیر قطبی ایشیا کی تعمیر اور ایشیااور افریقہ کی ترقی کے لئے ایک ایسے متبادل ماڈل کی  تشکیل کے لئے مل کر کام کر سکتے ہیں جو خود مختاری اور جمہوری اصولوں کے احترام پر مبنی ہو۔