سیاستدانوں کے اثاثوں میں اضافہ:سپریم کورٹ کی مرکز کو ہدایت

سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف فوجداری مقدمات کی سماعت میں تیزی لانے کے لئے تیزی سے مقدمہ نمٹانے والی نئی عدالتوں کے قیام کے تعلق سے قانون بنانے پر غور کرے۔سی بی ڈی ٹی نے عدالت کو ملک بھر کے ان سات ممبران پارلیمنٹ اور 98 ممبران اسمبلی کے نام دئیے ہیں جن کے اثاثوں میں دو انتخابات کے درمیان کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے ان سیاستدانوں کے ناموں پر دھیان دیا ہے اور وہ اس معاملے کی جانچ کرے گی۔عدالت نے یہ تبصرہ ایک این جی او کے طرف سے داخل کردہ اس درخواست پر کیا ہے جس میں ایسے امیدواروں کی تفتیش کے لئے ایک مستقل نظام قائم کرنے کی بات کہی گئی ہے جن کے اثاثوں میں رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے ان کی مدت کار کے دوران بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔عدالت عالیہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون بنانے اور قانون سازوں کے خلاف مقدمات تیزی سے نمٹانے کی غرض سے اس طرح کی عدالتیں قائم کرنے کے لئے ضروری بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کا اختیار ہے۔