یونیورسٹیوں ، تکنیکی اداروں اور امداد یافتہ کالجوں کے اساتذہ اور دیگر تعلیمی عملے کو ساتویں تنخواہ کمیشن کے فوائددینے کی کابینہ کی منظوری

مرکزی کابینہ نے مرکزی اور ریاستی یونیورسٹیوں ، تکنیکی اداروں اور امداد یافتہ کالجوں کے فیکلٹی ارکان اور اس کے مساوی دیگر تعلیمی عملے کے لیے ساتویں تنخواہ کمیشن کے فائدوں کو منظوری دے دی ہے۔ اس کا اطلاق یکم جنوری 2016 سے ہوگا۔ اس قدم سے مرکزی سرکار پر تقریباً نو ہزار 800 کروڑ روپئے سالانہ کا بار پڑے گا اور ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ اساتذہ کو فائدہ پہونچےگا۔

میٹنگ کے بعد نئی دلّی میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے فروغ انسانی وسائل کے وزیر پرکاش جاؤڈیکر نے کہا کہ تنخواہوں کے نئے اسکیل کے تحت اساتذہ کی تنخواہوں میں دس سے پچاس ہزار روپئے تک کا اضافہ ہوجائے گا۔ اس فیصلے سے آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایمس، آئی آئی آئی ٹیز اور مرکز کے زیر اہتمام دیگر اداروں کے اساتذہ  کو بھی فائدہ ہوگا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ اس اقدام سے فیکلٹی ارکان کےساتھ انصاف ہوسکے گا اور نئے باصلاحیت اور قابل لوگوں کو راغب کیا جاسکے گا۔ جناب جاؤڈیکر نے بتایا کہ مرکزی یونیورسٹیوں میں اساتذہ  کی خالی اسامیوں کو ایک سال کے اندر پُر کیا جائے گا۔

کابینہ نے ہنرمندی کے فروغ کی دو اسکیموں کو بھی منظوری دی ہے۔ ان میں سنکلپ یعنی روزی کے بہتر حصول  کے لیے ہنرمندی کی یافت  اور علم کے بارے میں بیداری  اور اسٹرائیو یعنی صنعتی کارکردگی کی بہتری کیے لیے ہنرمندی کو مستحکم کرنا شامل ہیں۔ عالمی بینک ان دونوں اسکیموں کے لیے امداد فراہم کرے گا۔ سنکلپ اسکیم 4ہزار 445 کروڑ روپئے کے اخراجات کے ساتھ مرکز کے زیر اہتمام اسکیم ہوگی جبکہ اسٹرائیو، دو ہزار 220 کروڑ روپئے کے اخراجات کے ساتھ مرکزی سیکٹر کی اسکیم ہوگی۔