12-10-2017

آج کی بات

 

امریکہ کی یہ شکایت پاکستان سے ایک لمبے عرصہ سے رہی ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کررہا ہے۔ ٹرمپ سے پہلے کی امریکی انتظامیہ نے بھی پوری کوشش کی کہ پاکستان کی جانب سے ایسے قدم اٹھائے جائیں  جن کے تحت ان دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں پر روک لگ سکے۔ پاکستان نے وعودے بھی کئے لیکن کوئی بھی وعدہ پورا نہ ہوسکا۔ امریکہ نے اپنے طور پر ساری خفیہ معلومات اکٹھا کرکے اوسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں کارروائی کی تھی ، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے اپنا اعتبار کھو چکا تھا۔ ان گروپوں کی سرگرمیوں کے باعث نہ صرف افغانستان کے شہری اور وہاں کی سیکورٹی فورسز کے اہلکار نشانہ بن رہے تھے بلکہ افغانستان میں تعینات امریکہ کی قیادت والی فوجیں بطور خاص ان حملوں کی زد میں آرہی تھیں۔ ظاہر ہے اس سے نہ صرف امریکہ ناراض تھا بلکہ فرسٹریشن کا بھی شکار ہوا تھا۔ پاکستان اس جنگ میں بہرحال امریکہ کا اتحادی تھا اس لئے وہ بجا طور پر پاکستان سے تعاون کی امید کررہا تھا۔ لیکن اسے مسلسل دھوکہ دیا گیا۔ امریکہ کے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمیرل مائک ملن (Mike Mullen) نے 2011 میں ہی ایک سماعت کے دوران امریکی قانون سازوں کو بتایا تھا کہ حقانی نیٹ ورک دراصل پاکستان کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک بازو کے طور پر کام کررہا ہے اور آئی ایس آئی کی مدد سے ہی اس نے ٹرک بم والا حملہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ امریکی سفارتخانے کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ اب اگر پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایک بات بالکل واضح ہے ۔ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے، پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے جو مضبوط رابطے ہیں ان سے سیویلین حکومت کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ کیونکہ راولپنڈی میں واقع پاکستانی فوج کا ہیڈ کوارٹر اپنی خارجہ پالیسی خود مرتب کرتا ہے۔ اسے اسلام آباد کی سیویلین حکومت کی پالیسی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث حکومت پاکستان امریکہ سے کیا ہوا اپنا وعدہ کبھی پورا نہیں کرسکی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بن جانے کے بعد پاکستان کے تعلق سے امریکہ نے قدرے سخت پالیسی اختیار کی اور وہ چاہتا ہے کہ ہر حال میں پاکستان کو مجبور کیا جائے کہ وہ افغانستان میں تباہ کاری پھیلانے والے گروپوں کو لگام دے۔ لیکن امریکہ یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ یہ سیویلین حکومت کے بس کی بات نہیں ہے لہذا اس کے لئے براہِ راست فوج اور ایجنسیوں یعنی deep state کو ہی مجبور کرنا پڑے گا۔ سو، اس وقت امریکہ میں گفتگو کا خاص موضوع یہی ہے کہ وہ کون سا طریقہ اختیار کیا جائے جس کے تحت آئی ایس آئی کو اپنا طریقہ کار بدلنے پر آمادہ کیاجاسکے۔ چنانچہ جب امریکی وزیر دفاع جیمس میٹّس  نے امریکی قانون سازوں کو بتایا کہ امریکہ ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہے تو یہی ظاہر ہوا کہ ان کا اصل اشارہ پاکستانی فوج کی طرف ہے ، بالخصوص خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی طرف! پاکستانی اُمور پر گہری نظر رکھنے والے مشاہدین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ اب پاکستان سے جو مطالبہ کرنے والا ہے وہ مطالبہ وہاں کی حکومت سے نہیں بلکہ آئی ایس آئی سے ہوگا۔ وہ یہ چاہے گا کہ آئی ایس آئی حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کرے مثلاً ان کی حرکات وسکنات کی تفصیل بتائے یعنی افغانستان میں وہ کیسے اور کس راستے سے داخل ہوتے ہیں۔ اسلحے اور فنڈ حاصل کرنے کے ان کے ذرائع کیا ہیں اور ان کے خاص اڈے کہا ں ہیں وغیرہ ۔ گزشتہ ہفتہ کیپٹل ہِل (Capital Hill) میں جو سماعتیں ہوئیں ان میں یہ دیکھا گیا کہ امریکہ  کا فرسٹریشن شباب پر ہے اور خود وزیر دفاع جیمس میٹّس نے یہ کہا کہ پاکستان کی سیویلین حکومت تو چاہتی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہو لیکن آئی ایس آئی کا اپنا الگ تصور ہے۔ وہ ہر قدم پر روکاوٹ ڈالتی ہے۔ جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے موجودہ چیئرمین نے بھی آئی ایس آئی کی سرگرمیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تجربہ یہی بتاتا ہے کہ آئی ایس آئی کے دہشت گردوں سے مضبوط رابطے ہیں۔ ایشیائی امور کے ایک امریکی ماہر ایشیلے ٹیلس(Ashley Tellis) نے اپنے ایک مقالے میں حال ہی میں کہا ہے کہ ہندپاک کشیدگی کے تناظر میں امریکہ کو پوری عہد بستگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا اور پاکستان کے فوجی ٹولے یعنی deep State کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ جہادی دہشت گردوں سے اپنا رشتہ توڑے ۔ مسٹر ٹیلس کو امریکہ، وزارت خارجہ میں ایک اہم پوزیشن دے کر ایڈمنسٹریشن میں شامل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ان تمام باتوں سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ اب قدرے مختلف خطوط پر پاکستان کےساتھ کام کرنا چاہتا ہے اور اب اس کا خاص زور اس بات پر ہوگا کہ وہ براہ راست فوج اور ایجنسیوں کو قائل کرے کہ وہ دہشت گردوں سے اپنا رشتہ توڑیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خود اپنی حکومت کو خاطر میں نہ لانے والی پاکستانی فوج اور اس کی ایجنسیاں، امریکہ کی بات مانتی ہیں اور دہشت گردوں سے اپنا رشتہ توڑتی ہیں یا نہیں؟ اور اگر نہیں تو پھر اس کا انجام کیا ہوگا۔ اس سوال کا جواب افغانستان اور اس پورے خطے کی سیکوریٹی سے جڑا ہوا ہے۔