آئی کین کو نوبیل امن انعام ، ایک خوش آئند قدم

روزنامہ انڈین ایکسپریس نے آئی کین (ICAN) کو اس سال نوبیل امن انعام پر اپنے اداریے میں خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ انعام ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب شمالی کوریا کے نیوکلیائی پروگرام کے تناظر میں نیوکلیائی اسلحہ جات سے پیدا خطرات جگ ظاہر ہیں۔ انٹرنیشنل کیمپین ٹو ابالش نیوکلیر ویپنس (International Campaign to Abolish Nuclear Weapons)  یعنی آئی کین، سول سوسائٹی گروپس اور حکومتوں پر مشتمل ہے جو اسلحہ جات کے مکمل خاتمے کے لئے کوشاں ہے۔ اور اس کو یہ انعام ’’نیوکلیائی اسلحہ جات کے استعمال سے انسانیت کے  خلاف تباہ کین اثرات کی طرف توجہ مبذول کرانے اور معاہدو ں پر مبنی ایسے اسلحوں کے استعمال کو روکنے کیلئے نمایاں کوششوں کے لئے دیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس سال کے اوائل میں، جنیوا میں قائم یہ گروپ نیوکلیائی پابندی کے لئے ایک دہائی کی کوششوں کے بعد ایک بین الاقوامی معاہدے کے حصول میں کامیاب ہوا تھا۔ اس معاہدے پر امریکہ میں غور وخوض اور دستخط کئے گئے تھے۔ لیکن یہ معاہدہ اسی صورت میں نافذ ہوگا جب 50 ممالک اس کی توثیق کریں گے۔ اب تک صرف چند ممالک نے ہی اس  کی توثیق کی ہے۔

روزنامہ ہندو نے بھی اسی موضوع پر اداریہ لکھا ہے۔ اخبار کے مطابق کمیٹی نے آئی کین کی اس کوشش کی تعریف کی ہے کہ  اس نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے نیوکلیائی اسلحہ جات کو ممنوع قرار دیے جانے کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ کیونکہ اب تک بارودی سرنگوں، کلسٹر اسلحہ وبارود اور کیمیاوی و حیاتیاتی اسلحوں پر ہی پابندی عائد تھی۔ آئی کین کو دیئے گئے اس انعام سے نیوکلیائی اسلحہ جات کے استعمال سے انسانیت کے خلاف تباہ کن اثرات کے خلاف عالمی حمایت کا اظہار ہوتا ہے۔