19.10.2017

یہ بات ایک عرصے سے کہی جارہی ہے کہ دہشت گردی عالمی امن کےلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ آئے دن ہلاکت خیز واقعات اور خودکش حملے ہورہے ہیں۔ تازہ حملے صومالیہ اور افغانستان میں ہوئے ہیں، جہاں علیٰ الترتیب 300 اور 71 افراد ہلاک ہوئے ہیں، لہٰذا یہ پوری دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ متحد ہوکر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرے۔ ان ملکوں کے خلاف بھی اقدامات کی ضرورت ہے، جو دہشت گردی کی اعانت اور فنڈ نگ کرتے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کا نام سرفہرست ہے۔ وہ ایک زمانے سے دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ وہاں متعدد دہشت گرد گروپ سرگرم ہیں اور ان کے تربیتی کیمپ بھی ہیں۔ طالبان اور حقانی نیٹورک کو پاکستانی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے، لہٰذا سب سے بڑی ذمہ داری اس پر عائد  ہوتی ہے۔ پاکستانی حکمراں اس بات کا دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن چلا رہے ہیں اور اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ محض لفاظی اور زبانی جمع خرچ ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں کے بیانات انتہائی متضاد ہیں اور ان کے قول و عمل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں  امریکہ نے جب رسّی کھینچی اور پاکستان کے خلاف سخت ترین بیانات کا سلسلہ شروع کردیاتو اسے خوش کرنے کےلئے ایک کناڈیاتی امریکی فیملی کو طالبان کے قبضے سے آزاد کرادیا گیا۔ یہ لوگ پانچ برسوں سے حقّانی کے قبضے میں تھے۔ انہیں 2012 میں اغوا کیا گیا تھا۔ امریکا کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ اطلاعات کے بعد پاکستان  کارروائی کرنے پر مجبور ہوگیا۔ اس پر امریکا نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آرہی ہے، لیکن اس کے فوراً بعد ہی پاکستان پھر اپنی روش پر لوٹ آیا۔ مذکورہ واقعہ سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ طالبان پر پاکستان کے اثرات ہیں، جہاں امریکا نے سختی دکھائی وہیں اس نے طالبان سے مذکورہ خاندان کو رہا کرنے کو کہہ دیا۔ دوسری بات یہ کہ اگر وہ چاہے تو دہشت گرد گروپوں کی کمر توڑ سکتا ہے، لیکن اس معاملے میں اس نے کبھی بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسی فیملی کو آزاد کیے ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ طالبان نے افغانستان میں انتہائی خوں ریز حملے کردیے جن میں 71 افراد ہلاک اور 170 سے زائد زخمی ہوگئے۔ یہ حملے پولیس کمپاؤنڈ اور سرکاری ٹھکانوں پر کیے گئے ۔ اس کے علاوہ پاکستان نے جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید پر سے دہشت گردی کے الزامات واپس لے لیے ہیں، جبکہ حافظ سعید کو اقوام متحدہ نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے، ان پر انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ جنوری میں انہیں نظر بند کیا گیا تھا۔ حالانکہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کے اس بیان کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی ہے کہ حافظ سعید جیسے لوگ پاکستان کےلئے بوجھ ہیں اور ان سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود ان پر سے دہشت گردی کا الزام واپس لے لینا پاکستان کی نیت کو بے نقاب کرتا ہے۔ حافظ سعید کے خلاف کارروائی میں کبھی بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ عالمی دباؤ میں انہیں نظر بندکیا گیا اور جب دباؤ کچھ کمزور ہوتا ہوا محسوس ہوا تو مذکورہ فیصلہ کرلیا گیا۔ حافظ سعید پر 2008 میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کا بھی الزام ہے۔ اس مقدمہ میں بھی  ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ کبھی وکیل عدالت سے غیر حاضر رہتے ہیں اور کبھی جج چھٹی پر چلے جاتے ہیں، جبکہ ہندوستان نے ان کے خلاف وافر ثبوت پاکستان کو فراہم کیے ہیں، جہاں تک افغانستان میں ہونے والے تازہ حملوں کا تعلق ہے تو پاکستان اس بارے میں بھی بے نقاب ہوگیا ہے۔ در اصل وہ طالبان اور حقانی نیٹورک کو افغانستان اور ہندوستان کے خلاف اسٹریٹجک اثاثے کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ ایک تو افغانستان پر اپنا دبدبہ قائم رکھنا چاہتا ہے اور دوسرے ہندوستان کے تعمیری منصوبوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ افغانستان میں ہندوستان کے پروجیکٹوں پر عمل ہو۔ حالانکہ ہندوستان افغانستان کو ایک دوست ملک سمجھتا ہے اور اس کی تعمیر و ترقی کےلئے مختلف پروگراموں میں سرگرم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا خاتمہ نہیں چاہتا، اگر وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہوتا تو نہ صرف پاکستان اور اس خطے سے بلکہ پوری دنیا سے دہشت گردی کا صفایا ہوگیا ہوتا۔ اسے بہر حال اپنے رویئے میں تبدیلی لانی ہوگی۔