کواڈ کی تشکیل سے ہندوستان کو اسٹریٹجک مواقع کا حصول ممکن

ہند ،جاپان،آسٹریلیا اور امریکہ کے درمیان چہار ملکی اتحاد’’کواڈ‘‘ کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اداریہ تحریر کیا ہے جس کے مطابق منیلا میں آسیان سر براہ کانفرنس کے موقع پر ان چاروں ممالک نے ایک نمایا ں جغرافیائی ،اسٹریٹجک اقدام کے تحت ،اتحاد کے ذریعہ تعاون میں تازہ روح پھونکی ہے ۔ اخبار نے لکھا ہے کہ اس اتحاد کی پہلی میٹنگ کا مقصد چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو کم کرنا ہے جس نے نہ صرف جنوب مشرقی ممالک کو محتاط ہونے پر مجبور کر دیاہے بلکہ ان کو ساؤتھ اور ایسٹ چائنا سی میں آزادانہ تجارت اور جہاز رانی کی آزادی کے تعلق سے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔اس کے علاوہ ، ہندوستان اور بھوٹان جیسے ممالک کی بری سرحدوں پر اس کا جارحانہ رویہ مزید تشویش کا باعث بنا ہوا ہے ۔اخبار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ایک  خوش آئند قدم ہے جس کے تحت کواڈ کے ذریعہ ایک ایسے آزاد ،غیر جانبدار،خوشحال اور شمولیت پر مبنی ہند۔بحرا لکاہل علاقے کی توثیق  ہوگی۔ جس پر کسی واحد ملک کی اجارہ داری نہ ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کواڈ کی تشکیل ہندوستان کے مفاد میں ہے کیونکہ اس سے اس کو نہ صرف مشرقی ایشیا میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ایک طاقتور پلیٹ فارم ملے گا بلکہ اس کو اپنے طاقتور دوستوں سے حکمت عملی کی تشکیل میں تعاون کا موقع اور اس کی ایکٹ ایسٹ پیش قدمی کو مزید تقویت ملے گی۔ اس میں شمولیت سے ہندوستان کو ہند۔ بحر الکاہل علاقے میں مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ چین اکثر و بیشتر ہندوستان کے سروکاروں کو نظر انداز کرتا رہا ہے ۔لہذا اس اتحاد کے بعد  وہ ہندوستان کی تشویشوں کو نظر انداز کرنے کی ہمت نہیں کرسکے گا۔