14.11.2017

نومبر 2014 میں میانمار میں 12ویں آسیان ۔ہند سر براہ کانفرنس اور9ویں مشرقی ایشیائی سر براہ کانفرنس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ ایکٹ ایسٹ پالیسی کی شروعات کے بعد ،آسیان اور وسیع تر ہند۔ بحرالکاہل علاقے میں ہند کی حیثیت کو مزید تقویت ملی ہے ۔اس اہم فورم میں یہ وزیرا عظم  کی چوتھی شرکت تھی۔منیلا میں 15 ویں  آسیان ۔ہند سربراہ کانفرنس میں جناب مودی اور آسیان کے رہنماؤں نے آسیان کے ساتھ  ہندوستان کی مذاکراتی شراکت کی 25 ویں سالگرہ اور تمام شعبوں میں آسیان ۔ہند تعاون کی وسیع النوع حیثیت کے موقع پر 2017 کی سر گرمیوں کا جائزہ لیا۔

ہندوستان اور آسیان کے درمیان 30 مذاکراتی طریقہ کار ہیں جن کے تحت با قاعدگی سے اجلاس ہوتے ہیں ان میں امور خارجہ،کامرس ،سیاحت،زراعت،ماحولیات،قابل تجدید توانائی اور ٹیلی مواصلات پر ایک سر براہ اور 7وزارتی سطح کی میٹنگیں شامل ہیں۔ وزیر مملکت برائے خارجہ سبکدوش جنرل وی کے سنگھ نے منیلا اور فلپائن میں اگست2017 میں آسیان۔ہند اور مشرقی ایشیائی وزرائے خارجہ کی میٹنگوں میں شرکت کی تھی ۔وزیر تجارت و صنعت سریش پربھو نے ستمبر میں منیلا میں آسیان کے وزرائے معیشت اور ہند مشاورت میں شرکت کی تھی۔جن کےدوران ان وزراء نے معاشی تعاون کے استحکام کے لئے ہندوستان کی  عہد بستگی کا اعادہ کیا تھا۔

وزیر دفاع کی حیثیت سے محترمہ نرملا سیتا رمن نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں گذشتہ ماہ منیلا میں منعقد آسیان وزرائے دفاع کی چوتھی میٹنگ میں شرکت کی تھی۔ اس میٹنگ میں انہوں نے دہشت گردی کو قطعاً برداشت نہ کرنے کے ہندوستانی موقف کا اعادہ کیا تھا اور اس لعنت کے خلاف بین الاقوامی اور علاقائی پلیٹ فارمس کی ضرورت کو تسلیم کیا تھا۔17-2016میں ہندستان اور آسیان کے درمیان تجارت 71 بلین امریکی ڈالر تھی جو دنیا میں ہندوستان کی کل تجارت کا 10اعشاریہ آٹھ پانچ فی صد تھی۔ ایک متوازن علاقائی مربوط معاشی شراکت معاہدے کی جلد تکمیل سےعلاقےمیں ہماری تجارت اور سرمایہ کاری سے ان  رشتوں کو مزید تقویت ملے گی۔

فلپائن کے موجودہ دورے کے علاوہ گزشتہ تین برس میں ہندوستان کے صدر ،نائب صدر اور وزیر اعظم نے اس ملک کے اعلیٰ اختیاراتی دورے کئے ہیں۔ اس سے آسیان کے رکن ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے ۔خاص طور پر یہ آسیان رکن ممالک کے ساتھ گہرے ہوتے ہوئے ہندوستان کے رشتوں کی علامت ہے ،اس نظر اندازی کے برسوں بعد جس نے چین کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے علاقے میں ہندوستان کے مفادات کو نقصان پہنچایا تھا، علاقے میں ہمارے نظریئے میں یقیناً یہ ایک زبر دست تبدیلی ہے ۔

وزیر اعظم کا موجودہ دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ ہند۔آسیان مذاکراتی شراکت کے 25 برس ،سر براہ سطح کی شراکت کے 15 برس اور آسیان کے ساتھ ہماری اسٹریٹجک شراکت کے 5 برس مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے ۔ آسیان سر براہ کانفرنس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے آسیان کے موجودہ سر براہ اور فلپائن کے صدر روڈریگوڈوٹرٹے کے ساتھ باہمی مذاکرات کئے ۔ جناب مودی نے امریکی صدر ڈونل ٹرمپ اور جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے سے بھی ملاقاتیں کیں۔

ہندوستان سمیت آسیان علاقے کی آبادی ایک اعشاریہ آٹھ پانچ  بلین ہے جو دنیا کا کل آبادی کی ایک چوتھائی ہے  اور اس کی گھریلو پیداوار تین اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر ہے جس کی وجہ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے ۔گذشتہ 17 برس میں آسیان کے ذریعہ سرمایہ کاری 70 بلین ڈالر سے زیادہ رہی ہے جو ہماری کل راست بیرونی سرمایہ کاری سے 17 فی صد زیادہ ہے جبکہ اسی مدت میں آسیان ممالک میں ہندوستان کی سرمایہ کاری 40 بلین ڈالر سے زیادہ رہی ہے۔ہند۔ آسیان دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کافی مستحکم ہے اور اس میں ہندوستانی معیشت اور آسیان ممالک کی معیشتوں میں فعالیت کی وجہ سےمزید اضافے کی گنجائش ہے ۔در حقیقت ،آسیان ممالک کے ساتھ معاشی تعاون میں مزید اضافے کے بھی اس میں زبر دست امکانات موجود ہیں۔

ہندوستان اور فلپائن نے عمدہ انتظامیہ،شمولیت پر مبنی نمو، بنیادی  ڈھانچےکے فروغ اور امداد باہمی وفاقیت پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ عالمی نظریات پر بھی دونوں ممالک میں زبر دست اتفاق رائے موجود ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے خیالات میں بھی بے حد ہم آہنگی پائی جاتی ہے کیونکہ فلپائن کے ساتھ تعلقات میں اضافے کے زبر دست امکانات موجود ہیں۔ہندوستان آسیان کے اتحاد اور علاقائی سلامتی کے نظم میں اس کی مرکوزیت کا زبر دست حامی ہے۔ ہندوستان نے آسیان کے مفاد خصوصاً کمبوڈیا،لاؤس،میانمار اور ویتنام میں پیش قدمیوں کے تحت پروجیکٹس کی تکمیل کے ذریعہ صلاحیتوں کی تشکیل کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں ۔پروجیکٹوں کے لئے رقوم کی فراہمی کے لئے ہندوستان نے تین فنڈ تشکیل دیئے ہیں پہلا100 ملین ڈالر کا ہند۔ آسیان تعاون فنڈ ،دوسراآسیان۔ ہند گرین فنڈ اور تیسراآسیان ۔ہند سائنس اور ٹکنا لوجی فنڈ۔مادی ،ڈیجیٹل اور معاشی رابطہ نیز عوام سے عوام کے درمیان رابطوں کو آسیان کے ساتھ ہند کے تعاون میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ علاقے میں ہندوستان کی ساکھ بہت اچھی ہے ۔اس سے سیاسی سلامتی کو مزید استحکام حاصل ہوگا جس کو آسیان کے ساتھ ہندوستان کے رشتوں میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔