21.11.2017

پاکستان صرف ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہی نہیں ہے بلکہ طرح طرح کے مذہبی اور مسلکی انتہا پسند گروپوں کی بہت بڑی جولان گاہ بھی ہے اور ان گروپوں میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ۔آج کل بریلوی مسلک کے ایک انتہا پسند گروپ تحریک لبیک یا رسول اللہ کا بڑا چرچہ ہے ۔یہ گروپ صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کا حامی اور معتقد ہے ۔گزشتہ دنوں لاہور اور صوبہ پختون خوا کی بعض پارلیمانی سیٹوں کے ضمنی انتخاب ہوئے تھے تو اس گروپ نے اپنے آزاد امیدوار کھڑے کئے تھے ،اگر چہ یہ امیدوار کامیاب نہیں ہوئے لیکن انہیں جس تعداد میں ووٹ ملے وہ ان کے حوصلے بڑھانے کےلئے کافی تھے۔ سب سے زیادہ قابل ذکر بات یہ تھی کہ اس کے امیدواروں نے پاکستان پیپلز پارٹی جیسی اہم قومی پارٹی اور جماعت اسلامی کے امیدواروں سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ۔ بریلوی مسلک کے گروپوں کی طرف سے یہ امید نہیں کی جاتی تھی کہ وہ اس طرح کی ہنگامہ آرائی کو فروغ دیں گے جس طرح کی ہنگامہ آرائیاں حافظ سعید جیسے لوگوں کی تنظیموں یا دفاع پاکستان کونسل جیسے اداروں کی طرف سے فروغ دی جاتی ہیں۔لیکن ممتاز قادری کو پھانسی دیئے جانے کے بعد بریلوی مسلک کے گروپوں کی سر گرمیاں بہت بڑھ گئی ہیں۔حالیہ دنوں میں ایک تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب الیکشن کمیشن میں امیدواروں کے حلف نامے میں ایک شق کسی غلطی یا چوک کی وجہ سے چھوٹ گئی تھی ۔ وہ شق ختم نبوت سے متعلق ہے ۔بہر حال اس غلطی یا چوک کا متعلقہ حکام نے اعتراف کیا اور اس کا ازالہ بھی ہو گیا لیکن انتہا پسند حلقوں کو ہنگامہ اور احتجاج کرنے کا ایک موقع مل گیا ۔ اور وہ خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے ۔اسی سلسلے میں تحریک لبیک یا رسول اللہ نے احتجاجی مظاہرے کا پروگرام بنایا اور اسلام آباد کا ایک طرح سے محاصرہ کر لیا۔ اس احتجاج کی قیادت اس گروپ کے لیڈر خادم حسین رضوی کر رہے ہیں جو اپنی اشتعال انگیز تقریروں کے لئے کافی بد نام ہیں ۔ خادم حسین کا زیادہ وقت ممتاز قادری کی تعریف و توصیف میں گزرتا ہے اور اس کی آڑ لے کر وہ منافرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں لیکن تحریک لبیک یارسول اللہ یا دوسری انتہا پسند تنظیموں کی ان غیر قانونی سر گرمیوں سے قطع نظر پاکستان کے سنجیدہ حلقے اور سول سوسائٹی بار بار یہ سوال اٹھا رہی ہےکہ کھلم کھلا نفرت کی تبلیغ کرنے والے ان حلقوں کے امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت کیسے مل جاتی ہے؟ یہ تو خود پاکستان کے قانون کی بھی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تحریک لبیک کی جانب سے اسلام آباد شہر کو یر غمال بنائے جانے اور اس کے امیدوار کے الیکشن میں حصہ لینے کے بعد حکام کو نہ تو قانون کی بالا دستی کی فکر ہے اور نہ ہی جمہوریت کے لئے بڑھتے خطرات کا کوئی اندیشہ ۔وہ ہمیشہ کی طرح سازش کی تھیوری اور پاکستان کے دشمنوں کی کارستانی جیسے مانوس نعروں کا سہارا لے رہے ہیں۔ اخبار ڈان میں ایک تجزیہ کار زاہد حسین نے ایک سخت مضمون لکھا ہے جس میں انتہائی غصہ کے عالم میں انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کھلی ہوئی قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بجائے حکام عوام کو گمراہ کرنے کے لئے بے سر پیر کی باتیں کیوں کر رہے ہیں؟ زاہد حسین نے ایک چبھتا ہوا سوال یہ بھی کیا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیاں اس وقت تو بہت سر گرم ہو جاتی ہیں جب کچھ بلاگرز سیکولر نظریات پر مبنی کچھ باتیں کہتے ہیں ۔اور حکومت سے اس کی پالیسیوں کی وضاحت چاہتے ہیں ۔ایسے سوال کرنے پر ان بلاگرز کو فوراً غدار یا پاکستان دشمن قرار دے دیا جاتا ہے اور ان کے خلاف اتنے سخت قدم اٹھائے جاتے ہیں کہ وہ یا تو اپنی جان بچانے کے لئے پاکستان چھوڑ کر کہیں اور چلے جاتے ہیں یا پھر خاموش رہ کر اپنی بے بسی پر آنسو بہاتے ہیں۔ دوسری طرف رضوی جیسے منافرت پھیلانے والے کٹھ ملاؤں کے خلاف قطعی کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا جو کھلم کھلا تشدد کو بڑھاوا اور اپنی تقریروں کے ذریعہ نفرت کی تعلیم دیتے ہیں ۔سوشل میڈیا پر ایسے لوگوں کی تقریریں بڑی آزادی سے پوسٹ کی جاتی ہیں۔

گذشتہ سال بھی اسلام آباد کے ڈی چوک کا محاصرہ اسی گروپ نے کیا تھا او کئی روز تک اس علاقے کو یر غمال بنائے رکھا تھا ۔ اس نے حکومت کی سرکاری تنصیبات پر یلغار کرنے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ وہ مظاہرہ اس پس منظر میں ہوا تھا کہ حکومت کچھ انتہا پسند مولویوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے جا رہی تھی جو اپنی تقریر وں کے ذریعہ نفرت کو بڑھاوا دے رہے تھے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ہنگامہ آرائی کو بات چیت کے ذریعہ دور کیا گیا تھا  لیکن احتجاج ختم کرانے کے لئے حکومت کو یہ وعدہ کرنا پڑا تھا کہ وہ  کسی بھی مولوی کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی ۔ حکومت کی اس کمزوری نے اب اس گروپ کو اتنا حوصلہ مند بنا دیا ہے کہ اس نے پھر اسلام آباد پر یلغار کر دی ۔حالانکہ ختم نبوت کی شق سے متعلق ہونے والی چوک کا ازالہ کیا جا چکا ہے لیکن مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اس چوک کے لئے وفاقی وزیر قانون کو معزول کیا جائے ۔ اس سلسلے میں تازہ خبر یہ ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے گروپ اور علماء و مشائخ سے مذاکرات ہو رہے ہیں اور کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کے ذریعہ ہی یہ مسئلہ سلجھا لیاجائے ۔یعنی ایک طرح سے حکومت ایک بار پھر گھٹنے ٹیکتی نظر آتی ہے ۔ اس صورت حال پر بعض پاکستانی مبصرین نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ اگر حکومت اسی طرح انتہا پسندوں کے سامنے بار بار سرنڈر کرتی رہی تو پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے ۔یہ دشمن پاکستان ہی میں موجود ہیں۔