امریکہ نے تسلیم کیا یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت، سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنیکا اعلان

امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کرلیا ہے۔ انہوں نے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مقدس شہر یروشلم منتقل کرنے کا عمل شروع کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔ صدر ڈونل ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس سے براہ راست ٹیلی ویژن پر نشر کئے گئے خطاب میں کہا ہے کہ یہ قدم بہت پہلے اٹھایا جانا چاہئے تھا۔

اس اقدام سے مقدس شہر سے متعلق کئی دہائیوں سے جاری اور بین الاقوامی پالیسی یکسر تبدیل ہوگئی ہے جس کے بارے میں کئی عرب لیڈروں نے خبردار کیا تھا کہ اس کی وجہ سے پہلے سے حساس مشرق وسطیٰ میں شورش بپا ہوسکتی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی فیصلے کو تاریخی، جرأت مندانہ اور انصاف پر مبنی قرار دیتے ہوئے ستائش کی ہے۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر عالمی اختلافات کی قیادت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گتریش نے کہا ہے کہ یروشلم کو ایک مقدس شہر قرار دیاگیا ہے اور اس مسئلہ کا حل براہ راست مذاکرات کے ذریعہ حل کیاجانا چاہئے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اسرائیل۔ فلسطین عمل کی ایک دہائی تک سرپرستی کرنے کے بعد امن کے ثالث کے طور پر اپنے رول سے دستبردار ہورہا ہے۔ ترکی، سعودی عرب، مصر، اردن ، ایران اور قطر نے امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ پوپ فرانس نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سبھی سے اپیل کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق شہر کی موجودہ صورتحال کو اسی طرح برقرار رکھنے کا احترام کریں۔

یوروپی یونین نے بامعنی مذاکرات کے عمل کو پھرشروع کرنے پر زور دیا ہے جبکہ چین اور روس نے، اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے کہا کہ برطانوی حکومت امریکی فیصلے سے اتفاق نہیں کرتی اور اپنے سفارتخانے کو تل ابیب سے منتقل کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔