07-12-2017

اگرپاکستان کے حکمرانوں سے پوچھا جائے کہ کیا وجہ ہے کہ پاکستان طرح طرح کے بحران کا شکار ہے اور عالمی برادری میں اس کی ساکھ اس حد تک گرگئی ہے کہ کوئی اس پر اعتبار نہیں کرتا تو وہ اِدھر اُدھر دیکھے بغیر ایک ہی جواب دیں گے کہ وہ غیر ملکی ایجنسیوں کی سازش کا شکار ہے۔ پہلے وہ صرف ہندوستان کو اپنی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے تھے، لیکن اب چند برسوں سے انھوں نے اپنے دشمنوں کی صف میں ہندوستان کے علاوہ امریکہ اور افغانستان اور ان کی ایجنسیوں کو بھی شامل کرلیا ہے اور اکثر اسرائیل کا نام بھی جوڑ دیتے ہیں، لیکن یہ جواز صرف وہاں کے حکمراں پیش کرتے ہیں۔ وہاں کے دانشوروں ، سیاسی طور پر باشعور حلقوں، تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے والے افراد کا خیال اس سے قطعی مختلف ہوتا ہے۔ ویسے حکمرانوں سے مراد، وہاں کی سیاسی قیادت نہیں بلکہ فوجی قیادت ہوتی ہے کیونکہ عام تاثر یہ ہے کہ سیاسی قیادت کو وہی کچھ کرنا یا بولنا پڑتا ہے جو وہاں کا فوجی اسٹیبلشمنٹ چاہتا ہے۔ جیسا کہ حال ہی میں مشاہدہ کیا گیا کہ حکومت نے جب فوج سے کہا کہ وہ تحریک لبیک کے مظاہرین سے اسلام آباد کو خالی کرائے تو فوج نےا یسا کرنے کے بجائے وزیر اعظم سے ملاقات کر کے انہیں تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مطالبات کو منظور کرنے پر مجبور کردیا۔ ان مطالبات میں وزیر قانون کا استعفیٰ بھی شامل تھا۔ آج کل پاکستان کے اخباروں میں یہی چرچہ ہے کہ فوج کے تعاون ہی سے تحریک لبیک کے لیڈروں نے سیاسی طوفان برپا کر کے ایک بہت بڑے بحران کو جنم دیا تھا اور جس طرح لاقانونیت برپا کر کے ایک بہت بڑے بحران کو انتہا پسند گروپ نے منتخب حکومت کی چولیں ہلا دیں اس کی مثال کسی جمہوری ملک میں مشکل ہی سے ملے گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے بھی فوج کے رول کی زبردست تنقید کرتے ہوئے اس سمجھوتے کو غیر قانونی قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ فوجی افسران کو ثالثی کا رول ادا کرنے کے لیے کس نے کہا تھا؟

آج کل پاکستان کے اخبارات میں ہر طرف اس بات کے چرچے ہیں کہ حکومت نے ایک انتہا پسند گروپ سے یکطرفہ نوعیت کا سمجھوتہ کر کے پورے طور پر اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ اس سمجھوتے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متعدد اخبارات نے اداریئے، جائزے اور خصوصی مضامین شائع کیے ہیں، جن میں فوج کے ثالثی کے رول کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیاہے، ایسے ہی ایک مضمون میں ایک معروف تجزیہ کار کا مران یوسف نے اخبار ایکسپریس ٹری بیون میں کہا ہے کہ گزشتہ ستر سال سے پاکستان کے عوام کو یہ کہہ کر بے وقوف بنایاجاتا رہا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی دشمنی ہندوستان سے ہے، جو اس کے وجود کو ختم کرنے کے در پے ہے اور اب کچھ برسوں سے یہ تاثر دیاجارہا ہے کہ ہندوستان ،امریکہ، افغانستان اور اسرائل کی ایجنسیاں پاکستان کے خلاف سازش کررہی ہیں۔ کامران یوسف کے مطابق بغیر کسی ثبوت یا ٹھوس شواہد کے صرف دوسرے پر الزام لگانا پاکستانی حکمرانوں کا وطیرہ رہا ہے۔ انھوں نے خاصے سخت لہجے میں کہا ہے کہ پاکستان کے اصل دشمن خود پاکستان ہی میں ہیں، جو ہمہ وقت پاکستان اور اس کے مفاد کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ متعدد دیگر واقعات کا حوالہ دینے کے ساتھ ساتھ انھوں نے حالیہ واقعات کا بطور خاص ذکر کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ تحریک لبیک یا رسول اللہ جیسی ایک نوزائیدہ دہشت گرد تنظیم کے آگے اپنے آپ کو پورے طور پر سرینڈر کر کے اور اس کے عام مطالبات کو تسلیم کر کے آخر پاکستان نے کیا پیغام دیا ہے۔ اس قسم کی باتوں سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی نام کی کسی چیز کا وجود ہی باقی نہیں رہا۔ انھوں نے فوج کی اس غیر اخلاقی  ، غیر آئینی اور غیر قانونی ثالثی کی بھی شدید تنقید کی ہے۔ اور کہا ہے کہ اِس کے باعث ایسے حالات پیدا ہوئے کہ جمہوریت اور آئین سب کچھ مذاق بن کر رہ گیا۔ اس مضمون میں ایک کلیدی سوال انھوں نے یہ اٹھایا ہے کہ یہ سب کچھ جو ہوا اس کا ذمہ د ار کون ہے وہ یہ پوچھتے ہیں کہ یہ کس کی سازش تھی؟ ہندوستان کی امریکہ کی یا اسرائیل کی؟ کیا غیر آئینی نوعیت کا سمجھوتہ کرانے، ایک انتہا پسند مذہبی گروپ کو وقار اور اعتبار عطا کرنے ، انتہا پسندوں کو اکسانے او ران میں پیسے تقسیم کرنے اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر کسی ایجنسی نے مجبور کیا ہے۔

ظاہر ہے یہ سارے کارنامے یہاں کی حکومت ،فوج اور دہشت گرد گروپوں نے مل کر انجام دیئے ہیں۔ کامران یوسف نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان کی تباہی اور اس کے وجود کو نقصان پہنچانے والا کوئی اور نہیں بلکہ یہی وہ حلقے ہیں جو آئے دن اسی طرح کے تماشے کرکے آئین اور جمہوریت کی دھجیاں اڑاتے رہتے ہیں۔ کامران یوسف کے علاوہ دیگر مضامین اور جائزوں مین بھی کچھ اسی طرح کی باتیں کہی گئی ہیں اور تو اور تحریک انصاف پارٹی کی ایک ممتاز رہنما شیریں مزاری کی جواں سال بیٹی ایمان مزاری نے پاکستانی فوج کے خلاف زبردست احتجاج کیا ہے اور ایک ویڈیو جاری کر کے انھوں نےفوج پر یہ الزام لگایا ہے کہ اس نے تحریک لبیک کے لیڈر خادم حسین رضوی سے ساز باز کر کے دھرنے اور احتجاج کا پروگرام مرتب کیا اور دہشت گردوں میں پیسے تقسیم کر کے انہیں احتجاج پر اکسایا۔ یاد رہے کہ ایمان مزاری کی والدہ شیریں مزاری فوج کی زبردست حامی اور مداح ہیں اور وہ ہندوستان دشمنی کےلئے بھی مشہور ہیں۔ انہیں کی صاحبزادی نے فوج کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کیا ہے اور کہا ہے کہ فوج اور دہشت گرد ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں ۔ غرضیکہ پاکستانی فوج کو پاکستان کے مختلف حلقوں کی جانب سے پاکستان کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا جارہا ہے۔