ہندوستان ، آر آئی سی میٹنگ میں اٹھائے گا دہشت گردی کا معاملہ

توقع ہے کہ روس، ہندوستان اور چین یعنی آر آئی سی کی 15 ویں میٹنگ میں دہشت گردی کامعاملہ اٹھائے گا۔ آر آئی سی وزرائے خارجہ کی یہ میٹنگ نئی دہلی میں 11دسمبر کو ہوگی۔ روزنامہ اسٹیٹس مین نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ یہ میٹنگ اقوام متحدہ سلامتی کاؤنسل میں جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دیئے جانے کی کوششوں میں چین کے ذریعے لگاتار رخنہ اندازی  کے پس منظر میں منعقد ہورہی ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان لگ بھگ 70 دن طویل تعطل کے بعد چین کے کسی اعلیٰ عہدیدار کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔ اس تعطل کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کو زبردست دھچکا پہونچا تھا۔ توقع ہے کہ اس میٹنگ میں تینوں وزرائے خارجہ مشترکہ مفاد کے اہم بین الاقوامی اور علاقائی اُمور پر تفصیلی گفتگو کریں گے جن میں افغانستان میں ترقیات، مشرق وسطیٰ اور کوریائی جزیرہ نما کے معاملات اور دہشت گردی اور منشیات کی غیرقانونی تجارت سے نپٹنے کیلئے تعاون شامل ہے۔ خیال ہے کہ نئی دہلی حکومت چین اور روس دونوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجائے گی کہ دہشت گردی ایک ایسی لعنت ہے جس سے نپٹنے کیلئے بین الاقوامی برادری کو متحد ہونا چاہئے۔ اخبار نے ون بیلٹ ون روڈ پروجیکٹ کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ہندوستان اس معاملے کو از خود نہیں اٹھائےگا لیکن اگر چین اس  میٹنگ میں اس معاملے کو چھیڑے گا تو نئی دہلی حکومت اپنے اس موقف کاا عادہ کرے گی کہ اس متنازعہ پیش قدمی سے کسی ملک کی خودمختاری پر آنچ نہیں آنا چاہئے۔ اخبار کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی (Wang Yi) کے اس دورے کو بے حد اہم خیال کیا جارہا ہے کیونکہ اس سے چین میں برسراقتدار کمیونسٹ پارٹی کے صدر کے بطور اپنی دوسری مدت کار میں صدر شی جن پنگ کی ہندوستان کے تئیں پالیسی کے رجحان کو طے کرنے میں مدد ملے گی۔ توقع ہے کہ وانگ یی کے دورے کے بعد چین کے اعلیٰ سفارتکار یانگ جی چی (Yang Jiechi) اس ماہ کے آخر میں ہند۔ چین سرحدی بات چیت کے 120ویں دور میں شرکت کے لئے ہندوستان آئیں گے۔ اس بات چیت میں جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی کوششوں میں چین کی رخنہ اندازی، ڈوکلام کے نزدیک چینی فوجوں کی بڑی تعداد میں مسلسل موجودگی اور سی پی ای سی جیسے معاملات شامل ہوں گے۔