این ایس جی میں ہندوستان کی رکنیت کی حمایت کے لئے روس چین پر دے گا زور

آج اخبارات نے جن دیگر اہم خبروں کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے ان میں روس کے ذریعے این ایس جی میں ہندوستان کی رکنیت کی حمایت کی خبر کافی اہمیت کی حامل ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اپنی خبر میں لکھا ہے کہ چین کے ذریعے ہندوستان کی این ایس جی رکنیت میں اڑنگا لگانے کے پس منظر میں روس کی پرزور حمایت بے حد اہم ہے۔ اخبار نے روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف (Sargey Ryabkov) کے بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ ہندوستان کی رکنیت کی درخواست کو پاکستان کی درخواست سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ مزید یہ کہ روس اس سلسلے میں چین کے ساتھ مختلف سطحوں پر بات چیت کررہا ہے۔ اخبار نے ہندوستان کے خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر کے ساتھ روس کے رہنما کی ملاقات کے حوالے سے مزید تحریر کیا ہے کہ ایک طرف اگرانہوں نے تمام ایکسپورٹ کنٹرول نظاموں میں ہندوستان کی رکنیت کی حمایت کی تو دوسری طرف انہوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ ہندوستان جلد از جلد ویسینار ارینجمنٹ(Wassenaar Arrangement) میں شمولیت حاصل کرے گا۔ واضح ہو کہ چین اس 41 رکنی گروپ کا رکن نہیں ہے۔ اخبار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ شاید پہلی بار کسی اعلیٰ روسی سفارتکار نے عوامی سطح پر دونوں معاملات کو ایک دوسرے سے جوڑنے کو بے نتیجہ قرار دیا ہے۔ اخبار نے سرحد پار سے جاری دہشت گردی کے بارے میں روسی نائب وزیرخارجہ کے بیان کا بھی حوالہ دیا ہے اور تحریر کیا ہے کہ اس سلسلے میں اس سال زیامن میں برکس سربراہ کانفرنس میں ایک مؤثر پیغام دیاگیا تھا جس میں پاکستان سے سرگرم لشکرطیبہ اور جیش محمد جیسے دہشت گردوں کا نام لیا گیا تھا۔