امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی قرار دیا

آج ملک کے تمام اخبارات نے یروشلم کو اسرائیل کی دارالحکومت بنانے کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کے بیان کو اپنی اشاعتوں میں نمایاں جگہ دی ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ ٹربیون نے تحریر کیا ہے کہ ڈونل ٹرمپ نے امریکی پالیسی کو پلٹتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے دنیا بھر کے ممالک کے اس انتباہ کو نظر انداز کردیا کہ اس فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں شورش میں مزید اضافہ ہوگا۔ اخبار نے وہائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کی تقریر کے حوالے سے مزید تحریر کیا ہے کہ انتظامیہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا عمل شروع کردےگی۔ خیال رہے کہ یروشلم کو اپنی اپنی راجدھانی بنانے کے لئے فلسطین اور اسرائیل دونوں ہی بضد رہے ہیں۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کو تاریخ ساز قرار دیا ہے اور دوسرے ممالک پر زو ردیا ہے کہ وہ اپنے سفارتخانوں کو یروشلم منتقل کریں۔ جب کہ امریکہ کے اتحادیوں نے اس فیصلے کے ممکنہ خطرناک نتائج کے سلسلے میں متنبہ کیا ہے۔ اخبار رقمطراز ہے کہ پوپ فرانسس نے صورتحال جوں کی توں برقرار رکھنے کے لئے کہا ہے کیونکہ بقول ان کے، اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی سے دنیا میں تنازعات شروع ہوسکتے ہیں۔ دوسرے ممالک جنہوں نے اس سلسلے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ان میں چین اور روس بھی شامل ہیں۔ اس فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فلسطین کے ایلچی نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک طرح سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا اعلان ہے۔