ریڈیو فیچر: “مسیحا درد کا”

سنیل دت

وقت’ انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے۔  ہندوستان کی آزادی اپنے دامن میں وسیع و عریض ملک کی تقسیم بھی لے کر آئی۔ بلراج دت کو’ پنجاب کے اپنے گاؤں خورد ضلع جہلم سے جو اب پاکستان میں ہے، بے دخل ہوکر ہریانہ کے جمنا نگر کے ایک گاؤں منڈاولی آنا پڑا۔

دیوان رگھوناتھ دت کے شرارتی بیٹے بلراج دت کوجو بچپن میں چھوٹے دیوان کہلاتے ان کی قسمت بمبئی لے گئی جہاں وہ دن میں پڑھتے اور رات میں کام کرتے۔ اسی دوران ریڈیو سیلون میں انہوں نے اعلیٰ شخصیات کا انٹرویو کرنا شروع کردیا اور دھیرے دھیرے یہ آواز آپ اپنی پہچان بن گئی۔ سنیل دت کے کرشمائی آواز کے جادو سے فلموں تک کے سفر کی داستان پیش کرتا ہے آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس کا یہ دستاویزی فیچر مسیحا درد کا۔

 

حصہ ایک

حصہ دو